30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بقیہ میں سے ایک کو اپنا وصی و منتظم کرجائے تو باقی دو اس وصیت کے گواہ بن سکتے ہیں۔بعض شارحین نے کہا کہ پانچ ساتھی چار سے افضل ہیں بلکہ جس قدر ساتھی زیادہ ہوں اتنا ہی اچھا ہے۔(اشعہ) جیسے جماعت نماز میں جس قدر ساتھی زیادہ ہوں اسی قدر اچھا۔
۲؎ پہلے کہا جاچکا ہے کہ سریہ چھوٹے لشکر کوبھی کہتے ہیں اور اس فوج کو بھی جس میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تشریف نہ لے جائیں یہاں پہلے معنی میں ہے کیونکہ اس کے مقابل جیوش آرہا ہے۔
۳؎ یعنی بہتر یہ ہے کہ لشکر جرار چار ہزار سے کم نہ ہو زیادہ ہو تو بہتر ہے۔
۴؎ یعنی بارہ ہزار کا لشکر جرار کبھی کمی تعداد کی وجہ سے دشمن کے مقابل شکست نہیں کھائے گا کسی اور وجہ سے شکست کھا جائے جیسے آپس کے جھگڑے،امیر کی نافرمانی،بے صبری،مال غنیمت کی رغبت وغیرہ۔چنانچہ غزوہ حنین میں حضرات صحابہ نے اولًا ظاہری شکست کمی تعداد کی وجہ سے نہ کھائی بلکہ اپنی کثرت پر اعتماد کرنے رب تعالٰی سے بے توجہ ہوجانے کی وجہ سے کھائی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَیَوْمَ حُنَیۡنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ"اس جنگ میں ہوازن سے مقابلہ تھا،مسلمان بارہ ہزار تھے، دس ہزار اہل مدینہ اور دو ہزار وہ مسلمانان مکہ جو فتح مکہ کے دن ایمان لائے تھے۔(مرقات) اولًا مسلمانوں کے قدم اکھڑے پھر جب مسلمانوں کی نظر گئی تو فتح پائی۔
|
3913 -[22] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّفُ فِي الْمَسِيرِ فَيُزْجِي الضَّعِيفَ وَيُرْدِفُ ويدْعو لَهُم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سفر کے دوران پیچھے رہتے تھے ۱؎ تو کمزور کو لے آتے اور پیچھے بٹھالیتے تھے اور ان کے لیے دعا فرماتے تھے ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی تمام سفروں جہاد وغیرہ میں صحابہ کرام کو آگے رکھتے تھے خود تواضع اور تعاون کے لیے پیچھے سفرکرتے تھے۔
۲؎ یعنی سرکار ابد قرار کے پیچھے رہنے میں یہ حکمتیں تھیں کہ جو مسافر کمزوری کی وجہ سے لشکر کے پیچھے رہ جاتا یا کسی مسافر کی کوئی چیز رہ جاتی وہ خود سرکار لے آتے تھے اس کے علاوہ تمام صحابہ کو سامنے رکھ کر ان کے لیے دعائے خیر فرماتے تھے۔سبحان اﷲ! ایسے رحیم و کریم نبی پر جان قربان۔شعر
چہ غم دیوار امت را کہ دارد چوں توپشتی بان چہ باک از موج بحر آنرا کہ دارد نوح کشتی بان
|
3914 -[23] وَعَن أبي ثعلبَةَ الخُشَنيِّ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ» . فَلَمْ يَنْزِلُوا بَعْدَ ذَلِكَ مَنْزِلًا إِلَّا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى يُقَالَ: لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثوبٌ لعمَّهم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے ابو ثعلبہ خشنی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ لوگ جب کسی منزل میں اترتے تو گھاٹیوں اور جنگلوں میں بکھر جاتے تھے ۲؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارا ان گھاٹیوں میں اور جنگلوں میں بکھرا رہنا یہ کام شیطان سے ہے۳؎ چنانچہ اس کے بعد مسلمان کسی منزل میں نہ اترے مگر اس حالت میں کہ بعض بعض سے ملے رہتے حتی کہ کہا جاتا اگر ان پر ایک کپڑا بچھا دیا جاتا تو ان پر پھیل جاتا ۴؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع