30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3910 -[19] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكبٌ». رَوَاهُ مالكٌ وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک سوار ایک شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ۲؎ اور تین سوار صحیح سوار ہیں ۳؎(مالک، ترمذی،ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ یعنی جنگل میں اکیلا مسافر آفات کے نرغہ میں ہوتا ہے،نماز باجماعت سے محروم ہے،ضرورت کے وقت اسے مددگار کوئی نہ ملے گا،بلاؤں آفتوں کے خطرے میں ہے خصوصًا اس زمانہ پاک میں جب کہ راستے پر خطر تھے اب اس امن کے زمانہ میں بھی ریل کے ڈبہ میں اکیلے سفرکرنے والے چلتی ٹرین میں لٹ گئے حتی کہ حکومت نے انٹر کلاس کی زنانہ سواریوں کو اجازت دی کہ وہ رات میں اپنی تھرڈ کلاس کی سہیلی کو اپنے ساتھ انٹر میں بٹھا سکتی ہیں سرکار کے فرمان ہمیشہ ہی مفید ہیں۔
۲؎ یعنی دو مسافر بھی آفات کے خطرے میں ہیں کہ اگر ایک بیمار ہوجائے تو دوسرا بے یارومددگار رہ جائے۔
۳؎ یعنی تین مسافر ہیں جنہیں صحیح معنی میں قافلہ کہا جاوے۔رکب اسم جمع ہے جیسے نفر اور رھط اور صحب اس لیے ارشاد ہوا کہ جماعت پر اﷲ کا ہاتھ(رحمت)ہے۔اس فرمان عالی میں بھی بڑی حکمتیں ہیں سفر میں کسی کی رضا قضا واقع ہوجائے تو باقی اور دو آسانی سے اسے سنبھال سکتے ہیں۔
|
3911 -[20] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أحدهم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تین شخص سفر میں ہوں تو ایک کو اپنا امیر بنالیں ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی اگر مسافر تین یا زیادہ ہوں تو انتظام قائم رکھنے کے لیے اپنے میں سے ایک افضل اور تجربہ کار کو اپنا سردار بنائیں جو ہر چیز کا انتظام رکھے اور باقی ساتھی اس کے مشورہ پرعمل کریں اس میں برکت بھی ہوگی اور سفر میں آسانی بھی اس سردار کو چاہیے کہ اپنے کو ان ساتھیوں کا حاکم نہ سمجھے بلکہ خادم تصور کرے،نماز بھی وہ ہی پڑھائے جیساکہ بزاز نے بروایت حضرت ابوہریرہ مرفوعًا روایت کی کہ جب تم چند آدمی سفرکرو تم میں سے بڑا قاری(عالم)تمہاری امامت کرے اور جب وہ تمہاری امامت کرے تو وہ ہی تمہارا امیروسردار ہے۔ (مرقات)
|
3912 -[21] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا بہتر ساتھی چار ہیں ۱؎ اور بہترین فوج چار سو ہیں ۲؎ اور بہتر لشکر چار ہزار ہیں۳؎ اور بارہ ہزار کی نفری کبھی تھوڑی ہونے کی وجہ سے مغلوب نہ ہوگی۴؎ (ترمذی،ابوداؤد،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ صحابہ جمع ہے صاحب بمعنی ساتھی کی اور فاعل کی جمع بروزن فعالہ اس کے سوا کہیں نہیں آئی۔ (مرقات)یہاں ساتھی سے مراد سفر کے ساتھی ہیں۔چار ہم سفر ساتھیوں کو اس لیے افضل فرمایا گیا کہ اگر ان میں سے ایک راستہ میں فوت ہو جائے اور ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع