30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۵؎ اَرحام ہماری قرأۃ میں منصوب ہے لفظ اللہ پر معطوف یعنی رحم قطع کرنےسےڈرو اور ہوسکتا ہے کہ ارحام مجرور ہو بہ کی ضمیر پر یعنی لوگوں سے رشتہ کے واسطے سے مانگتے ہو،لہذا رحمی رشتہ کا بھی لحاظ رکھو۔
۱۶؎ درست بات سے مراد کلمہ طیبہ ہے یا ہر سچی بات عدل و انصاف کی بات یعنی ہمیشہ کلمہ طیبہ پڑھا کرو، سچ بولا کرو انصاف کی بات کیا کرو۔
۱۷؎ یعنی انسان کی کامیابی مال دولت عزت و حکومت سے نہیں اﷲ رسول کی اطاعت سے ہے کہ مال و دولت فانی ہیں اور اس اطاعت کا ثواب باقی اورلازوال ہے۔
۱۸؎ یعنی سفیان ثوری نے یہ حدیث و خطبہ بھی نقل فرمایا ان مذکور آیتوں کی تفسیر بھی کی۔
۱۹؎ دارمی کا عطف ابن ماجہ پر ہے یعنی ابن ماجہ نے تو ان الحمدﷲ کے بعد نحمدہ زیادہ کیا،اور من شرور انفسنا،کے بعد ومن سیات اعمالنا بڑھایا اور دارمی نے عظیما کے بعد یہ الفاظ زیادہ کیے کہ پھر وہ بات کرے جس کے لیے خطبہ پڑھا۔
۲۰؎ یعنی دوسری روایات میں توخطبہ حاجت میں صرف نکاح کا لفظ ہے مگر شرح سنہ میں نکاح وغیرہ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ یہ خطبہ صرف نکاح کے لیے ہی نہیں ہے وعظ وغیرہ دوسری دینی کلاموں کے لیے بھی ہے،حصن حصین میں اس خطبہ میں اور بھی الفاظ شامل ہیں چنانچہ وہاں و رسولہ کے بعد ہے۔ارسلہ بالحق بشیراو نذیرا بین یدی الساعۃ من یطع اﷲ ورسولہ فقد رشد ومن یعصیھما فلا یضر الانفسہ ولا یضر اﷲ شیئا بہرحال خطبہ میں زیادتی و کمی ہوسکتی ہے بہتر یہ ہے کہ منقولہ الفاظ ضرور پڑھے۔(از مرقات وغیرہ)
|
3150 -[11] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ» .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر وہ خطبہ جس میں کلمہ شہادت نہ ہو وہ کوڑھ والے ہاتھ کی طرح ہے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔ـ |
۱؎ جذماء یا تو جذم سے بنا بمعنی کٹ جانا یا جذام سے بمعنی کوڑھ یہاں دونوں معنی درست ہیں یعنی جو خطبہ شہادت توحید و رسالت سے خالی ہو وہ کٹے ہو ئے یا کوڑھ والے ہاتھ کی طرح ہے کہ بظاہر ہاتھ معلوم ہوتا ہے مگر ہاتھ والے کو فائدہ مند نہیں ایسے ہی ایسے خطبہ میں الفاظ تو سننے میں آتے ہیں مگر نہ وہ عنداﷲ قبول ہے نہ اس پر ثواب نہ اس میں برکات۔معلوم ہوا کہ کلمہ شہادت بڑا ہی فائدہ مند عمل ہے یہ مسلمان کا زندگی و موت کا وظیفہ ہے۔
|
3151 -[12] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ بِالْحَمْدِ لِلَّهِ فَهُوَ أَقْطَعُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شاندار کام ۱؎ اﷲ کی حمد سے شروع نہ ہو وہ ناقص ہے ۲؎(ابن ماجہ) |
۱؎ بال کے لغوی معنی ہیں دل،خیال،توجہ،اصطلاح میں اس کے معنی ہیں شان،اچھا،انجام، حال،شریف،چونکہ ایسے کام کی طرف دل متوجہ ہوتا ہے اس لیے اسے بال کہتے ہیں یہ قید لگا کر مکروہ ممنوع کاموں کو نکال دیا لہذا حقہ پیتے وقت بسم اﷲ اور پی کر الحمدﷲ پڑھنا مکروہ ہے یوں ہی شراب جوئے زنا پر یہ پڑھنا حرام ہے بلکہ اندیشہ کفر ہے یوں ہی جھوٹ و غیبت وغیرہ پر یہ پڑھنا سخت ممنوع ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع