30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ کسی سفر سے مدینہ منورہ واپس آئے۔خیال رہے کہ ابوطلحہ جناب انس کے سوتیلے والد ہیں اور اس وقت خیبر سے یہ سب حضرات واپس ہوئے تھے جیساکہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں ہے۔بی بی صفیہ اسی خیبر میں حاصل ہوئی تھیں،پہلے آپ جناب دحیہ کلبی کے حصہ میں تھیں پھرحضور انور نے ان سے خود قبول فرما کراپنی زوجیت سے شرف بخشا رضی اللہ عنہا۔
۲؎ طریقہ سفر یہ تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اور بی بی صفیہ ایک اونٹ پر تھے اور حضرت انس و ابوطلحہ اپنے اونٹ پر اس طرح مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔اس سے معلوم ہوا کہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ گھوڑے خچر یا اونٹ پر سوار کرلینا جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔
|
3902 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا وَكَانَ لَا يَدْخُلُ إِلَّا غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر رات میں سفر سے نہ آتے تھے ۱؎ مگر صبح یا شام کے وقت ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ کیونکہ بغیر اطلاع اچانک رات میں مسافر کا گھر پہنچنا گھر والوں کی تکلیف کا باعث ہوتا ہے اور اس زمانہ میں خبر رسانی کے ذرائع بہت محدود تھے اب تو خط،تار ٹیلی فون وغیرہ سے خبر دی جاسکتی ہے۔یطرق بنا ہے طرق سے بمعنی دروازہ بجانا کواڑ کھڑکانا،چونکہ رات میں آنے پر اس کھڑکانے کی ضرورت پڑتی ہے اس لیے رات میں آنے والے مسافر کو طارق کہتے ہیں ستارہ کو بھی طارق کہا جاتا ہے کہ وہ رات میں ہی چمکتا ہے۔ (مرقات)
۲؎ صبح صادق سے زوال تک کا وقت غدوہ ہے اور زوال سے سورج ڈوبتے تک کا وقت عشیہ یعنی حضور کی مدینہ منورہ میں آمد یا صبح کے وقت ہوتی تھی یا بعد ظہر۔
|
3903 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا طَال أَحَدُكُمُ الْغَيْبَةَ فَلَا يَطْرُقْ أَهْلَهُ لَيْلًا» |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کوئی تم میں سے بہت عرصہ غائب رہے تو رات میں اپنے گھر نہ آئے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ حکم اس زمانہ کے لیے تھا جب کہ آنے والا مسافر اپنی آمد کی اطلاع اپنے گھر نہ دے سکتا تھا اب اطلاع دے کر رات میں آنا بالکل جائز ہے۔یہاں مرقات میں ہے کہ اس ممانعت کے بعد دوشخص آزمائش کے لیے ا پنے گھر رات میں پہنچے تو انہوں نے اپنی بیویوں کے پاس اجنبی مرد پائے گویا انہیں اس مخالفت امر کی سزا ملی حضور کے ہر حکم میں صدہا حکمتیں ہوتی ہیں۔
|
3904 -[13] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدَخُلْ عَلَى أهلك حَتَّى تستحد المغيبة وتمتشط الشعثة» |
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تم رات میں آؤ تو اپنی بیوی کے نہ جاؤ ۱؎ حتی کہ وہ زیر ناف لوہا استعمال کرلیں ۲؎ اور پریشان بالوں میں کنگھی پھیرلیں ۳؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ یعنی جب تم سفر سے اپنے شہر میں آؤ رات میں نہ جاؤ،بعض نسخوں میں یوں ہے اذا دخلت بیتك وہ اس شرح کی تائید کرتا ہے۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع