30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ خصب خ کے فتحہ ص کے سکون سے بمعنی ارزانی کا سال یہاں مراد سرسبزی کا زمانہ ہے جب بارشیں مناسب ہوچکی ہوں جنگل ہر بھرے ہوں۔
۲؎ اس طرح کہ تھوڑی تھوڑی دور سفر کرکے اونٹ کو چرنے کے لیے چھوڑ دو کہ وہ بھی زمین کی سبزی کھالے راستہ میں ٹھہرتے اور چراتے ہوئے سفر طے کرو۔
۳؎ راستہ میں بلا ضرورت نہ ٹھہرو جلد سفر کرکے منزل پر پہنچو تاکہ اونٹ تھک کر راہ میں ہی نہ رہ جائیں جس سے تم کو بھی مصیبت پڑ جائے۔
۴؎ عرستم بنا ہے تعریس سے عربی میں تعریس کے معنی ہیں مسافر کا آخری رات میں آرام کرنا،یہاں بطریق تجربہ مطلقًا رات میں آرام کرنا مراد ہے اول رات میں ہو یا آخر رات میں جیساکہ آئندہ وجہ بیان فرمانے سے معلوم ہورہا ہے۔یہ احکام استحبابی ہیں بطور مشورہ۔
۵؎ دواب سے مراد مسافروں کے جانور ہیں،ھوام سے مراد زہریلے جانور سانپ بچھو وغیرہ بہرحال راستے اور گزرگاہ میں اترنا ٹھہرنا تکلیف دہ بھی ہے خطرناک بھی۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ تعریس سے مراد مطلقًا اترنا ہے رات میں ہو یا دوپہری میں۔
۶؎ نقی نون،قاف،ی بمعنی ہڈی کی مینگ یعنی اس سے پہلے سفرختم کر کے گھر پہنچ جاؤ کہ جانوروں کی ہڈی کی مینگ ختم ہوجائے اور دبلے ہوکر تھک رہیں۔بعض شارحین نے نقب ب سے روایت کی ہے بمعنی اونٹ کے پاؤں کا ہلکا ہوجانا یعنی ان کا پاؤں ہلکا پڑ جانے سے پہلے گھر پہنچ جاؤ جب بھی مطلب وہ ہی ہے،بعض لوگوں نے نقب بمعنی راستہ کہا مگر یہ غلط ہے کہ پھر مطلب ہی کچھ نہیں بنتا۔
|
3898 -[7] وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٌ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ» قَالَ: فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حَقَّ لأحدٍ منا فِي فضل. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں اس حال میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۱؎ کہ آپ کی خدمت میں ایک شخص اونٹ پر آیا ۲؎ تو دائیں بائیں طرف مارنے لگا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس کے پاس بچی ہوئی زائد سواری ہو تو وہ اس پر خرچ کرے جس کے پاس سواری نہیں۳؎ اور جس کے پاس بچا ہوا توشہ ہو تو وہ ا س پر خرچ کرے جس کے پاس توشہ نہیں۴؎ فرماتے ہیں کہ حضور نے ہر قسم کے مال کا ذکر فرمایا ۵؎ حتی کہ ہم سمجھے کہ ہم میں سے کسی کو بچے ہوئے میں کوئی حق ہی نہیں ۶؎(مسلم) |
۱؎ وہ اونٹ دبلا اور تھکا ہوا تھا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎ اپنے اونٹ کو دو طرف مارنے لگا کیونکہ وہ چلتا نہ تھا تھک گیا تھا یا باہنے دائیں نظرمارنے نگاہ دوڑانے لگا تاکہ کوئی اس کا حال زار دیکھ کر اس کی مدد کرتا ہے یا نہیں یعنی وہ شخص شریف النفس تھا کسی سے سوال نہ کیا بلکہ امداد کی امید پر ادھر ادھر دیکھنے لگا شاید یہ شخص اپنے وطن میں امیر آدمی تھا یہاں سفر میں قابل مدد ہوگیا تھا۔(مرقات) اس جملہ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دائیں بائیں دوڑانے لگا پریشانی کی وجہ سے اسے کچھ سوجھتا نہ تھا غرضیکہ وہ سخت پریشان تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع