30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ رایۃ بنا ہے رای سےبمعنی دیکھنا دکھانا اور لواء بنا ہے لوی سے بمعنی لپیٹنا یا گاڑنا،اصطلاح میں چھوٹے جھنڈے کو لواء کہتے ہیں جو کبھی خود لڑنے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور بڑے جھنڈے کو رایۃ کہا جاتا ہے جو لشکر جرار کا نشان ہوتا ہے اور اس کے برعکس بھی استعمال ہوتا ہے یعنی چھوٹا جھنڈا رایۃ اور بڑا جھنڈا لواء یہاں پہلے معنی میں حضور کے بڑے جھنڈے کا نام رایۃ تھا اسے ام اطرب بھی کہتے تھے،اکثر لواء بڑے جھنڈے کو بولتے ہیں ولواءالحمد یومئذٍ بیدی قیامت کے دن حمد کا جھنڈا ہمارے ہاتھ ہوگا،سیاہ سے مراد بھلسا ہے تیز سیاہ نہیں،دیکھو مرقات و اشعہ۔
|
3888 -[28] وَعَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ: بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت موسیٰ ابن عبیدہ سے جو محمد ابن قاسم کے مولیٰ ہیں ۱؎ فرماتے ہیں مجھے محمد ابن قاسم نے براءابن عازب کے پاس بھیجا ۲؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے جھنڈے کے متعلق دریافت کرنے کے لیے تو فرمایا وہ سیاہ رنگ کا چوکھٹا تھا اون کا ۳؎ (احمد ،ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ آپ زہدی ہیں،تابعین میں سےہیں،بہت سے محدثین نے آپ کو ضعیف فرمایا ہے،بعض نے آپ کی توثیق کی ہے اور محمد بن قاسم بھی تابعی ہیں،آپ کا لقب خلاءعنبری ہے،کنیت ابوالغیار،جعفر منصور کے آزاد کردہ غلام ہیں،رہواز میں پیدا ہوئے،بصرے میں قیام رہا۔
۲؎ کہ حضور کا جھنڈا کس قسم اور کس رنگ کا ہوتا تھا ان حضرات کا یہ عشق رسول تھا کہ حضور کے ہر حال ہر ادا کی تحقیق کرکے ان کی نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
۳؎ نمرہ عربی میں چیتے کو کہتے ہیں کیونکہ اکثر وہ رنگ برنگا ہوتا ہے اس لیے اب رنگ برنگے اونی کپڑے کو بھی کہنے لگے نمرہ اونی چادر جو اکثر بدوی لوگ پہنتے ہیں،لہذا یہاں سیاہ سے مراد سیاہ دھاری والا ہے جس میں سفید دھاریاں بھی ہوں۔
|
3889 -[29] وَعَنْ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں تشریف لائے حالانکہ آپ کا جھنڈا سفید تھا ۱؎(ترمذی،ابوداؤ،ابن ماجہ) |
۱؎ اس کا ذکر پہلے ہوچکا کہ لواء سے مراد یا تو چھوٹا جھنڈا ہے جو ہر قوم کا الگ تھا مہاجرین کے جھنڈے کا رنگ سفید تھا یا بڑا جھنڈا مراد ہے جو لشکر کا نشان تھا۔ظاہر یہ ہے کہ وہ جھنڈے بالکل سادہ تھے ان پر کوئی نشان یا تحریر نہ تھی،بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان پر کلمہ طیبہ لاالٰہ الا الله محمد رسول الله لکھا تھا۔و الله اعلم! اب سلطنتوں کے جھنڈوں پر عموماً تحریر تو نہیں ہوتی مگر کچھ خصوصی نشان ہوتے ہیں اور مخصوص رنگ جیسے ہمارے پاکستان کے جھندے کا رنگ سبز اور سفید ہے نشان چاند تارا مگر تحریر کوئی نہیں اللہ تعالٰی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کے جھنڈے کے صدقہ میں ہماراپاکستان اسلامستان بن جائے اس کا جھنڈا ہمیشہ بلندوبالا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع