30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ اس طرح بنی ہاشم خصوصًا اولاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم زکوۃ و فطرہ نذر وغیرہ واجب صدقے نہیں لے سکتے اگرچہ غریب ہوں حتی کہ زکوۃ کا عامل اگر غنی بھی ہو تو زکوۃ سے اسے تنخواہ دی جائے گی لیکن اگر عامل سید ہو تو اسے زکوۃ سے اجرت بھی نہیں دے سکتے یہ ہے اس پاک و صاف نسب کی طہارت و نجابت ۔شعر
ہے صدقہ میل پھر اس پاک و ستھرے کو روا کیوں ہو کہ دنیا کھا رہی ہے جس کے آل پاک کا صدقہ
۵؎ یعنی ہم اہل بیت خچر نہ بنائیں۔خیال رہے کہ خچر بنانا بلا وجہ عوام کے لیے مکروہ ہے حضور کی اولاد کے لیے حرام ہے کیونکہ خچر بنانے میں اول تو نسل کشی ہے کہ خچر کی نسل نہیں چلتی۔دوم اعلیٰ سے ادنیٰ حاصل کرنا ہے کہ گھوڑا اعلیٰ ہے خچر ادنیٰ اسی لیے جہاد میں غازی کے گھوڑے کا تو حصہ ہوتا ہے اس کے خچر کا حصہ نہیں ہوتا مگر چونکہ کبھی خچر بھی کام آتا ہے اس لیے خچر بنانا امت کے لیے حرام نہیں مگر اہل بیت اطہار کے لیے بہت حرام۔اس حدیث میں روافض کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم باطنی علوم اہل بیت اطہار کو دے گئے جن کی خبر دوسروں کو نہیں حتی کہ قرآن کریم کا کچھ حصہ بھی انہیں کے پاس رہا۔ (مرقات)
|
3883 -[23] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بغلةٌ فركِبَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ فَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يعلمُونَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے ایک خچر ہدیۃً پیش کیاگیا تو حضور اس پر سوار ہوئے ۱؎ تو حضرت علی نے عرض کیا ہم بھی گدھے کو گھوڑی پر چڑھایا کرتے تو ہمارے پاس بھی اس جیسے جانور ہوجاتے ۲؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو جانتے نہیں ۳؎ (ابوداؤد،نسائی ) |
۱؎ اس خچر کا نام دلدل تھا جو شاہ اسکندریہ مقوقس نے حضور انور کی خدمت میں ہدیۃًبھیجا تھا اور حضور نے اس پر سواری فرمائی۔(اشعہ)
۲؎ کیونکہ خچرمضبوط جانور ہے اس سے بہت دشوار کام بھی بہ آسانی ہوجاتے ہیں اور یارسول اﷲ یہ آپ کو مرغوب بھی ہے کہ حضور نے اس پر سواری فرمائی ہے۔
۳؎ یعنی جو لوگ احکام شرعی سے ناواقف ہیں وہ یہ کام کرتے ہیں۔خیال رہے کہ خچر بنانا معززین کو جائز نہیں مگر خچر پر سواری کرنا اس سے کام لینا بلاکراہۃً جائز ہے جیسے جاندار کی تصویر بنانا جائز نہیں مگر بنی ہوئی تصویر کا فرش یا بستر میں استعمال بالکل جائز ہے،رب تعالٰی نے خچر کا ذکر اپنے انعامات کے سلسلہ میں کیا کہ فرمایا:"وَالْخَیۡلَ وَ الْبِغَالَ وَالْحَمِیۡرَ لِتَرْکَبُوۡہَا وَزِیۡنَۃً"لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔(مرقات)
|
3884 -[24] وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی تلوار کا قبضہ چاندی کا تھا ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد، نسائی، دارمی) |
۱؎ قبیعہ بروزن سیکنہ تلوار کے قبضہ کا کنارہ جو پکڑتے وقت مٹھی سے باہر رہتا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تلوار وغیرہ کو چاندی سے آراستہ کرنا جائز ہے،بعض علماء نے اس حدیث کے بنا ء پر فرمایا کہ گھوڑے کی کاٹھی اور زین کو چاندی سے آراستہ کرسکتے ہیں،بعض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع