دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3875 -[15]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ فَإِنْ كَانَ يُؤْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلَا خَيْرَ فِيهِ وَإِنْ كَانَ لَا يُؤْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلَا بَأْسَ بِهِ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: قَالَ: «مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ يَعْنِي وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلَيْسَ بِقِمَارٍ وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَقَدْ أَمِنَ أَنْ يَسْبِقَ فَهُوَ قمار»

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو ایک گھوڑا دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے ۱؎ تو اگر وہ پیچھے رہ جانے سے مطمئن ہو تو اس میں بھلائی نہیں اور اگر پیچھے رہ جانے سے امن نہ ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۲؎ شرح سنہ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ فرمایا جو دو گھوڑوں کے درمیان گھوڑا داخل کرے مطلب یہ ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے سے امن میں نہ ہو تو وہ جوا  نہیں اور جو گھوڑا دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور پیچھے رہ جانے سے امن میں ہو تو وہ جوا ہے۳؎

۱؎  یہ حدیث گزشتہ حدیث کی ایک صورت کی شرح ہے۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ مثلًا زید اورعمر اپنے گھوڑے مقابلہ میں دوڑا رہے ہیں تو بکر نے بھی ان کے درمیان اپنا گھوڑا کھڑا کردیا اور شرط یہ ٹھہری کہ اگر بکر کا گھوڑا نصب العین حد پر پہلے پہنچ گیا پھر زید و عمر  کے گھوڑے ایک ساتھ یا آگے پیچھے وہاں پہنچے تو بکر ان دونوں سے سو سو روپیہ لے گا اور اگر زید و عمرکے گھوڑے ایک ساتھ وہاں پہلے پہنچ گئے پھر تیسرا گھوڑا بکر کا پہنچا تو کسی کو کچھ نہ ملے گا اور اگر زید عمر  کے گھوڑوں میں سے کسی کا گھوڑا پہلے پہنچ گیا پھر دوسرا گھوڑا بکر کے گھوڑے کے ساتھ یا آگے پیچھے پہنچے تو یہ اگلے گھوڑے والا یہ پوری رقم دو سو روپیہ پر قبضہ کرے گا اور اگر بکر کا گھوڑا اور اس کے ساتھ پہلے گھوڑوں میں سے ایک گھوڑا ایک ساتھ پہلے پہنچے پھر ایک گھوڑا بعد میں پہنچا تو وہ دونوں اگلے گھوڑے والے اس رقم پر قبضہ کرلیں یہ جائز ہے  کہ اب جوا نہ رہا۔(مرقات)

۲؎  یعنی اگر اس تیسرے شخص بکر کو یقین ہے کہ میرا گھوڑا ان دونوں سے آگے نکلے گا کہ یہ تیز ہے وہ دونوں سست تو اس مال کا لینا بکر کو بہتر نہیں اور اگر مشکوک معاملہ ہو تو مال اسے حلال ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ گھوڑ دوڑ میں دونوں فریقوں کا مالی شرط لگانا ہار جیت مقرر کرنا جوا اور حرام ہے لیکن جب تیسرا آدمی ان میں اپنا گھوڑا شامل کردے جو مال نہ دے اور اسے اپنے اس گھوڑے کے جیتنے کا یقین بھی نہ ہو شک میں ہو کہ نہ معلوم جیتے یا ہارے تو وہ دونوں فریق مالی ہار جیت طے کرسکتے ہیں اور وہ عمل جوا نہ رہے گا۔اس تیسرے گھوڑے کو شریعت میں محلل کہتے ہیں یعنی اس عمل یا اس مال کو حلال کرنے والا اب جیت و ہار کی چار پانچ صورتیں ہوگئیں جو ابھی عرض کی گئیں ۔

۳؎  یہاں ان یسبق معروف بھی ہوسکتا ہے اور مجہول بھی یعنی اس کے آگے رہنے کا امن و اطمینان ہو یا پیچھے رہ جانے سے امن ہو۔

3876 -[16]

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ» . زَادَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: «فِي الرِّهَانِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مَعَ زِيَادَة فِي بَاب «الْغَضَب»

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ تو ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ ساتھ میں گھوڑا رکھنا ۲؎  یحیی  نے اپنی حدیث میں یہ زیادتی کی کہ گھوڑ دوڑ میں۲؎ ابوداؤد،نسائی اور اسے ترمذی نے کچھ زیادتی کے ساتھ باب الغصب میں روایت کیا ۳؎

۱؎  آپ کے حالات بار بار بیان ہوچکے،آپ وہ ہی صحابی ہیں جو تیس سال بیمار رہے اور اس بیماری پر صابر و شاکر رہے،آپ کو فرشتے سلام کرتے تھے۔

۲؎  یعنی گھوڑ دوڑ میں دونوں فریق یا ایک فریق نہ جلب کرے نہ جنب یہ دونوں لفظ کتاب الزکوۃ میں گزر چکے ہیں مگر وہاں ان کے اور معنی تھے یہاں جلب کے معنی ہیں اپنے گھوڑے کے ساتھ دوسرے گھوڑے پر سوار ہو کر دوڑنا اور شور مچا کر ڈانٹ کر اس دوڑ والے گھوڑے کو تیز کرنا۔اور جنب کے معنی ہیں اس دوڑنے والے گھوڑے کے ساتھ اور گھوڑا رکھنا اگر راہ میں وہ گھوڑا تھک جائے تو اس دوسرے کو بازی میں لگادیا جائے۔چاہیے یہ کہ دوڑ کی حالت میں گھوڑوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے وہ خود اپنی مرضی و طاقت سے دوڑیں جو آگے نکل جائے وہ جیتے۔لفظ فی الرھان یا تو حضور انور کا ہی فرمان عالی ہے یا کسی راوی کا ہے جو حدیث کی تفسیر کے لیے بولا گیا یعنی جلب اور جنب گھوڑ دوڑ میں ممنوع ہے اور جگہ نہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن