30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی چونکہ تم نے روم جیتنا ہے اور رومی لوگ نہایت اعلیٰ درجے کے تیر انداز ہیں لہذا ابھی سے تیر اندازی کی مشق کرو اس سے غافل نہ رہو تاکہ اس جنگ کے وقت تمہارا یہ فن کام آوے۔اس تیر اندازی کو لہو فرمانا رغبت کے لیے ہے یعنی یہ فن عبادت بھی ہے اور دل لگی فرحت و سرور،قوت و طاقت حاصل ہونے کا ذریعہ بھی لہذا اس سے غافل نہ رہو،نفس لہو یعنی کھیل کود کی طرف راغب ہے،دل عبادت کا خواہاں،تیر اندازی میں یہ دونوں صفتیں موجود ہیں لہذا یہاں لہو سے مراد غفلت کی چیز نہیں بلکہ مراد رغبت کی چیز ہے،صحابہ کرام نے اس حدیث پر عمل کیا اور جیتنا عہد فاروقی میں۔ کاش آج اسکولوں میں بجائے ہاکی کرکٹ اور فٹ بال کے ایسے کھیل کھلائے جائیں جو کھیل بھی ہوں اور ہنر بھی جیسے گھوڑ دوڑ اور نشانہ بازی۔خیال رہے کہ دنیا میں تین اعظم گزرے ہیں جنہوں نے بڑی فتوحات کیں سکندر اعظم،نپولین اعظم اور فاروق اعظم،سکندر اور ذوالقرنین کی فتوحات غیروں کے پاس چلی گئیں مگر فاروق اعظم کی فتوحات بفضلہ تعالٰی اب تک تمام کی تمام مسلمانوں کے قبضے میں ہیں جیسے روم،شام،ایران،عراق وغیرہ اﷲ تعالٰی دائم قائم رکھے۔
|
3863 -[3] وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يقولُ: «مَنْ علِمَ الرَّميَ ثمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَى» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو وہ ہم سے نہیں ۱؎ یا اس نے نافرمانی کی ۲؎(مسلم) |
۱؎ یعنی ہم سے ملا ہوا ہم سے قریب نہیں یا اس جماعت سے نہیں جن سے ہم راضی ہیں کیونکہ اس نے کفران نعمت کیا ہے کہ تیر اندازی جیسی عبادت سیکھ کر بھلادی ہر عبادت کا یہ ہی حال ہے کہ اسے حاصل کرکے سستی سے بھلادیا۔
۲؎ عصٰی یا تو حضور انور کا فرمان ہے یا راوی نے تردد فرمایا کہ مجھے پوراخیال نہیں یا حضور نے یہ فرمایا اور یا یہ لفظ ارشاد فرمایا۔
|
3864 -[4] وَعَن سلَمةَ بنِ الأكوَعِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُونَ بِالسُّوقِ فَقَالَ: «ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ» لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا بِأَيْدِيهِمْ فَقَالَ: «مَا لَكُمْ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ؟ قَالَ: «ارْمُوا وَأَنا مَعكُمْ كلكُمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکو ع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم قبیلہ اسلم کی ایک قوم پر تشریف لائے جو بازار میں تیر اندازی کررہی تھی۲؎ تو فرمایا اے بنی اسماعیل تیر چلاؤ کیونکہ تمہارے والد تیر انداز تھے اور میں فلاں جماعت کے ساتھ ہوں(دو فریق میں سے ایک کے لیے)تو انہوں نے اپنے ہاتھ روک لیے۴؎ فرمایا تمہیں کیا ہوا وہ بولے ہم کیسے تیر اندازی کریں آپ فلاں قبیلہ والوں کے ساتھ ہوگئے ۵؎ فرمایا تیر اندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہوں۶؎(بخاری) |
۱؎ آپ سلمی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے،بہت ہی بڑے بہادر اور پیادہ لڑنے والوں کے امام تھے،تیر اندازی میں کمال رکھتے تھے،آپ ہی سے بھیڑیئے نے کلام کیا تھا،اسی برس عمر پائی ۴۷ھ میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع