30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شَہِیۡدًا"حضور نے دو قبروں پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا کہ ان کو عذاب ہورہا ہے ان میں ایک چغل خور تھا دوسرا چرواہا کہ پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچتا تھا۔شعر
اے فراغت صبح آثار و دھور چشم تو بینندہ ما فی الصدو
۵؎ اس طرح کہ لشکر تھکا ہوا آرہا تھا رات میں ایک جنگل میں آرام کرنا چاہتا تھا پہرہ دار کی ضرورت تھی تاکہ دشمن شب خون نہ مار دے اس اﷲ کے بندہ نے تمام لشکر کو سلادیا خود تمام رات جاگ کر پہرہ دیا اس کی یہ نیکی میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔
۶؎ یعنی حضور نے اس کے تمام گناہ نظر انداز فرمادیئے اور اس کی ایک نیکی کی گواہی لے کر اس کی نماز بھی پڑھی اور اس قبر پر تین لپ مٹی بھی اپنے دست اقدس سے ڈالی،اے مرنے والے تیرے نصیب کے صدقے۔خیال رہے کہ اس شخص نے اگرچہ بہت گناہ کیے ہوں گے مگر اس رات کے پہرہ سے سارے معاف ہوچکے اور حضور کی اس نماز اور دفن فرمانے سے اسے رب نے بڑے درجے عطا فرمائے ۔اہل سنت کا یہ عقیدہ کہ تمام صحابہ عادل ہیں کوئی فاسق نہیں بالکل حق ہے کہ وہ اگرچہ گناہ کرلیتے تھے مگر اس رحمت کے سمندر میں نہا دھو کر پاک و صاف ہوجاتے تھے لہذا اس پر روافض یہ اعتراض نہیں کرسکتے کہ صحابہ فاجر و فاسق بھی تھے گناہ کرنا اور چیز ہے فاسق ہونا یا رہنا دوسری چیز۔
۷؎ اول درجہ کا جتنی وہ ہے جو مرتے ہی روحانی طور پر اور محشر کے بعد بغیر سز ا پائے جسمانی طور پر اول ہی سے جنت میں جائے گا کیونکہ تیرے سارے گناہ اس پہرے اور میری نماز سے معاف ہوچکے یہ ہے اس غیوب دان صلی اللہ علیہ و سلم کا علم۔
۸؎ یعنی دنیا میں ہم اور سارے مسلمان تم سے کسی میت کے برے اعمال کے متعلق نہ پوچھیں گے لہذا تم ایسے موقعہ پر کسی مسلمان کے گناہ بیان نہ کرنا،عیب پوشی سے کام لینا دیکھو ہم نے اس کی نیکی کی تو گواہی لی مگر گناہوں کی گواہی نہ لی اپنے مسلمان مردوں کو بھلائی سے یاد کرنا۔(از لمعات و اشعہ مع زیادہ)
۹؎ یعنی ہم اور ہمارے صحابہ تم سے میتوں کے ایمان کی گواہی لیا کریں گے تم ان کے ایمان کی گواہی دیا کرو مسلمان کو بعد موت اچھائی سے یاد کرو۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مقروض میت پر نماز نہ پڑھتے تھے صحابہ سے پڑھوادیتے تھے تاکہ لوگ قرض سے بچیں۔قرض حق العبد ہے جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتا،نیز فقہاء فرماتے ہیں کہ ڈاکو وغیرہ پر نماز نہ پڑھی جاوے کیونکہ یہ فتنہ گر ہیں یہ شخص حقوق اﷲ کا مجرم ہوگا لہذا اس کے سارے گناہ نظر انداز کردیئے گئے۔فقیر کی اس شرح سے حسب ذیل اعتراض اٹھ گئے:(۱) ایک یہ کہ تم سنی لوگ کہتے ہو کہ تمام صحابہ عادل ہیں۔حضرت عمر کے اس قول سے معلوم ہوا کہ بعض صحابہ فاجر بھی ہیں(۲) دوسرے یہ کہ حضور نے حضرت عمر وغیرہم سے اس میت کے گناہ کیوں نہ پوچھے نیکی کیوں پوچھی(۳)تیسرے یہ کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم مقروض کی نماز بھی نہیں پڑھتے تھے تو ایسے گنہگار کی نماز کیوں پڑھ لی(۴)چوتھے یہ کہ حضور کو علم نہیں ورنہ آپ لوگوں سے کیوں پوچھتے کہ اس میت کی کوئی نیکی بیان کرو۔خیال رہے کہ حضور انور کا اس میت کے متعلق جنتی ہونے کی گواہی دینے سے معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم سب کی سعادت و شقاوت انکے جنتی دوزخی ہونے سے خبردار ہیں،ورنہ بغیر خبر حضور اس کے جنتی ہونے کی خبر کیسے دے رہے تھے یہ ہے حضور کا مطلع ہونا علوم خمسہ پر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع