30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۶؎ اس ترتیب مراتب کا خلاصہ یہ ہے کہ شہید یا تو متقی بھی ہے اور بہادر بھی یہ اول درجہ کا ہے۔یا متقی ہے مگر بہادر نہیں یہ دوسری قسم کا ہے یا بہادر ہے مگر متقی نہیں،اس کی پھر دو قسمیں یا فاسق و مسرف نہیں وہ تیسرے درجہ میں ہے یا فاسق اور مسرف ہے یہ چوتھے درجے میں ہے۔خیال رہے کہ اس حدیث میں تصدیق سے مراد شجاعت و بہادری۔(اشعہ و لمعات)
|
3859 -[72] وَعَن عُتبةَ بن عبدٍ السَّلَميِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: " الْقَتْلَى ثَلَاثَة: مُؤمن جَاهد نَفسه وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ " قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ: «فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُمْتَحَنُ فِي خَيْمَةِ اللَّهِ تَحْتَ عَرْشِهِ لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ وَمُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ» قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ: «مُمَصْمِصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ وَمُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ فَذَاكَ فِي النَّارِ إِنَّ السيفَ لَا يمحُو النِّفاقَ» . رَوَاهُ الدارميُّ |
روایت ہے حضرت عتبہ ابن عبدسلمی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مقتولین تین طرح کے ہیں وہ مؤمن جو اپنی جان و مال سے راہِ خدا میں جہاد کرے پھر جب دشمن سے ملے تو جہاد کرے حتی کہ قتل کیا جائے ۲؎ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے باے میں کہ یہ اﷲ کی رحمت میں ہے پاک و صاف کیا ہوا۳؎ عرش کے نیچے اﷲ کے خیمہ میں۴؎ نہیں بڑھے اس پر حضرات انبیاء مگر نبوت کے درجہ کی وجہ سے ۵؎ اور ایک وہ مؤمن جس نے اچھے برے مخلوط کام کیے ۶؎ اس نے اپنی جان اور مال سے راہ خدا میں جہاد کیا جب دشمن سے ملا تو جہاد کیا حتی کہ قتل کردیا گیا فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس شہادت میں صفائی ہے۷؎ اس کے گناہ اور خطائیں مٹادیں ۸؎ تلوار خطاؤں کو مٹانے والی ہے ۹؎ اور وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل کیا جا ئے گا ۱۰؎ اور ایک منافق جو اپنے جان و مال سے جہاد کرے پھر جب دشمن سے ملے تو قتال کرے حتی کہ قتل کیا جائے تو یہ دوزخ میں ہے ۱۱؎ کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی ۱۲؎ (دارمی) |
۱؎ عتبہ عین کے پیش اور ت کے جزم سے آپ کا نام عتلہ تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے عتبہ رکھا،غزوہ خیبر میں شریک ہوئے، مقام حمص میں چورانوے سال کی عمر میں، ۷۸ھ میں وفات پائی،بقول واقدی آپ شام کے آخری صحابی ہیں۔
۲؎ اس فرمان عالی میں مؤمن سے مراد متقی پرہیزگار مؤمن ہے اور اگلے اوصاف سے مراد ہے جان و مال راہ خدا میں خرچ کرنا بہادر ہونا،صابر ہونا یہ ہے اول درجے کا شہید۔
۳؎ ممتحن کے چند معنی ہیں وہ سب یہاں بن سکتے ہیں (۱) آزمایا ہوا،امتحان لیا ہوا(۲)پاس شدہ کامیاب
(۳)سینہ کھولا،شرح صدر والا(۴)پاک و صاف کیا ہوا جیسے بھٹی کے ذریعہ لوہا پاک کیا جاتا ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امْتَحَنَ اللہُ قُلُوۡبَہُمْ لِلتَّقْوٰی"اس آیت کی تفسیر میں علماء نے امتحان کے بہت معانی بیان فرمائے ہیں۔
۴؎ یعنی ایسے شہید کو مرتے ہی رب تعالٰی سے اس قدر قرب نصیب ہوتا ہے جو دوسروں کو میسر نہیں ہوتا۔خیمہ سے مراد نوری مقام ہے اس کی حقیقت رب ہی جانے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع