30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ اس طرح کہ جانی اور مالی دونوں قسم کا جہاد کرے تو چونکہ اس کا عمل زیادہ ہے اس لیے اجر بھی زیادہ،یہ حدیث اس آیت کے اس جز کی شرح ہے "وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔
|
3858 -[71] وَعَن فَضالةَ بنِ عُبيد قَالَ: سمِعْتُ عمَرَ بن الْخطاب يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَعْيُنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَكَذَا " وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى سَقَطَتْ قَلَنْسُوَتُهُ فَمَا أَدْرِي أَقَلَنْسُوَةَ عُمَرَ أَرَادَ أَمْ قَلَنْسُوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ كَأَنَّمَا ضَرَبَ جِلْدَهُ بِشَوْكٍ طَلْحٍ مِنَ الْجُبْنِ أَتَاهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ فَهُوَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ فَذَلِكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت فضالہ ابن عبید سے ۱؎ فرماتے ہیں جناب عمر ابن خطاب کو سناکہ فرماتے تھے میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ شہید چار قسم کے ہیں ایک کھرے ایمان والا مؤمن ۲؎ جو دشمن سے ملے تو اﷲ کی تصدیق کرے۳؎ حتی کہ مارا جاوے یہ وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن لوگ اس کی طرف یوں آنکھیں اٹھائیں گے۴؎ اور اپنا سر اٹھایا حتی کہ آپ کی ٹوپی گرگئی ۵؎ مجھے خبر نہیں حضرت عمر کی ٹوپی مراد لی ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ٹوپی شریف ۶؎ فرمایا اور ایک وہ شخص جو کھرے ایمان والا ہے ۷؎ دشمن سے ملے گویا اس کی کھال میں بزدلی کی وجہ سے خار دار درخت کے کانٹے چبھودیئے گئے ۸؎ اسے غائبانہ تیر لگا قتل کردیا ۹؎ تو یہ دوسرے درجہ میں ہے ۱۰؎ اور ایک بندہ مؤمن جس نے نیک و بد اعمال ملے جلے کیے ۱۱؎ دشمن سے ملا اﷲ کی تصدیق کی حتی کہ قتل کردیا گیا ۱۲؎ تو یہ تیسرے درجہ میں ہے ۱۳؎ اور ایک بندہ مؤمن جس نے اپنے نفس پر زیادتی کی ۱۴؎ دشمن سے ملا اﷲ کی تصدیق کی حتی کہ قتل کیا گیا ۱۵؎ تو یہ چوتھے درجے میں ہے ۱۶؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن و غریب ہے۔ |
۱؎ آپ کے حالات فصل دوم کے شروع میں گزر چکے۔
۲؎ خواہ مرد ہو یا عورت۔کھرے ایمان سے مراد یہ ہے کہ اس کے عقائد بھی درست ہوں اعمال بھی اور متقی پرہیزگار ہو جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔
۳؎ فصدق کی قرأت دال کے شد سے بھی ہے اور بغیر شد کے بھی لہذا اس جملہ کے دو معنی ہیں،اگرشد سے ہے تو معنی یہ ہیں کہ اﷲ کے وعدوں کو سچا جانتے ہیں،شوق وذوق سے کفار کو مارے اور شہید ہوکر جان دیدے اوربغیر شد کی صورت میں معنی یہ ہیں کہ اﷲ تعالٰی کو سچ کر دکھائے وہ تمام وعدے جو اس نے رب سے کیے تھے کیونکہ مؤمن ایمان لاکر اﷲ تعالٰی سے بہت سے وعدے کر لیتا ہے اور اﷲ تعالٰی اس سے بہت سے وعدے فرمالیتا ہے،اس کی تفصیل ہماری تفسیر میں ملاحظہ کرو،رب فرماتاہے:"مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عٰہَدُوا اللہَ عَلَیۡہِ"۔اس آیت میں اس عہد کی طرف اشارہ ہے جو مؤمن رب سے کرتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع