30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث سے منسوخ ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِذَا الْمَوْءٗدَۃُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتْ"جب زندہ دابی ہوئی بچی سے پوچھا جائے کہ تو کس قصور میں ماری گئی تھی اگر وہ خود ہی دوزخی ہوتی تو اس سوال کے کیا معنی ہوتے۔غرضیکہ اس حدیث کی تائید بہت سی آیات سے ہے،رب تعالٰی بغیر گناہ کسی کو دوزخ نہ دے وہ کریم ہے،چونکہ یہ چاروں جماعتیں یعنی انبیاء شہداء بچے اور موؤدہ بغیر حساب جنت میں جائیں گے اسی لیے خصوصیت سے ان چار کا ذکر ہوا،ورنہ جنتی اور لوگ بھی ہیں۔خیال رہے کہ جنت کسبی،عطائی،وہبی تین طرح حاصل ہوگی،اپنے اعمال سے،اپنے بزرگوں کے اعمال سے جیسے مسلمانوں کے بچے صرف عطا ذوالجلال سے جیسے ایک مخلوق جنت پر کرنے کے لیے پیدا کی جائے گی مگر دوزخ صرف کسبی طور سے ملے گی وہبی یا عطائی نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَہَلْ نُجٰزِیۡۤ اِلَّا الْکَفُوۡرَ"اور فرماتاہے:"ہَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ"۔
۴؎ یہ حدیث احمد نے بھی روایت کی اور جامع صغیر میں بھی ہے۔(مرقات)
|
3857 -[70] وَعَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أَرْسَلَ نَفَقَةً فِي سبيلِ الله وأقامَ فِي بيتِه فلَه بكلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُمِائَةِ دِرْهَمٍ وَمَنْ غَزَا بِنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْفَقَ فِي وَجْهِهِ ذَلِكَ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ» . ثُمَّ تَلَا هذهِ الآيةَ: (واللَّهُ يُضاعفُ لمنْ يشاءُ) رَوَاهُ ابنُ مَاجَه |
روایت ہے حضرت علی،ابوالدرداء،ابوہریرہ،ابو امامہ عبداﷲ ابن عمر اور عبداللہ ابن عمرو اور جابر بن عبداﷲ اور عمران بن حصین سے یہ تمام حضرات رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں ۱؎ کہ حضور نے فرمایا جو شخص راہِ خدا میں کچھ خرچہ بھیج دے۲؎ اور خود اپنے گھر میں رہے۳؎ اسے ہر درہم کے عوض سات سو درہم ملیں گے۴؎ اور جو راہِ خدا میں بذات خود جہاد کرے اور اس کی راہ میں خرچ کرے تو اس کے لیے ہر درہم کے عوض سات لاکھ درہم ہیں پھر حضور نے یہ آیت تلاوت کی اﷲ جسے چاہے گا بہت زیادہ دے گا ۵؎(ابن ماجہ) |
۱؎ چونکہ ان آٹھوں صحابہ نے الگ الگ یہ روایت کی ہے اس لیے یحدث واحد کا صیغہ ارشاد ہوا جمع یعنی یحدثون نہ فرمایا۔(مرقات)
۲؎ روپیہ یا موسم کے مطابق نمازیوں کے لیے کپڑے یا ان کے لیے راشن یا ہتھیار۔غرضیکہ کوئی چیز جو مجاہدوں کو ضروری ہو ان کے لیے کھیل کا سامان،گانے بجانے کے آلات،سینما فلم وغیرہ مراد نہیں کہ ان کا استعمال عام لوگوں کو ممنوع ہے اور مجاہدوں کو زیادہ ممنوع کہ وہ راہِ خدا میں سربکف ہیں،شہادت کی موت انکے سامنے ہے انہیں اس وقت بہت ہی تقویٰ اختیار کرنا چاہیے سرکاری ملازموں کا جب ریٹائر ہونے کا زمانہ قریب ہوتا ہے تو وہ بہت احتیاط برتتے ہیں کہ کہیں ہماری بے احتیاطی پنشن پر اثر نہ کرے۔
۳؎ کیونکہ اس وقت جہاد فرض کفایہ ہو فرض عین نہ ہو،ورنہ فرض عین ہونے کے وقت تو ہر مسلمان کو جہاد کرنا چاہیے،اس وقت گھر میں رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
۴؎ اس کا ماخذ وہ آیت کریمہ ہے"مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع