دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۳؎ خیال رہے کہ ماکل،مشرب اور مقیل تینوں مصدر میمی ہیں اسم ظرف نہیں،مقیل دوپہر کے آرامگاہ کو کہتے ہیں۔قیلولہ سے بنا ہے یہاں عیش و آرام مراد ہے جنت میں بلکہ بعد موت نیند نہیں،حدیث شریف میں جو ہے کہ قبر میں بندہ مؤمن سے فرشتے کہتے ہیں نم کنومۃ العروس تو سوجا دلہن کی طرح وہاں یہ سونا مراد نہیں جاگنے کا مقابل بلکہ بے فکری والا آرام مراد ہے،محاورہ میں غفلت اور عیش دونوں کو نیند سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

ع             جملہ عالم راہمہ درخواب داں

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان شہداء کو کھانے پینے کی اجازت تو ہوتی ہے مگر حوروں کی اجازت نہیں وہ تو بعد قیامت ہوگی جب اس جسم سے داخلہ ہوگا۔

۴؎ یعنی زندہ ہیں اور جنت میں ہیں،یہ مطلب نہیں کہ ہم جنت میں زندہ اور دنیا میں مردہ ہیں جیساکہ اس زمانہ کے بعض بے دین کہتے ہیں۔

۵؎  ینکلو نکل سے بنا بمعنی بزدلی۔(مرقات)بے دلی و بے رغبتی۔(اشعۃ اللمعات)یعنی جہاد جنت کے گلزار کا راستہ راہ خدادار ہے لہذا ان کانٹوں کی پرواہ  نہ کرو یہاں کے گلزار تک پہنچو۔

۶؎  اسمیں خطاب یا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے یا ہر مسلمان سے،قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا گیا کہ شہداء کو مردہ نہ کہو،یہاں فرمایا گیا کہ انہیں مردہ نہ سمجھو،کہنا زبان یا قلم سے ہوتا ہے،سمجھنا دل و دماغ سے،جتنی تاکید رب تعالٰی نے حیات شہداء کی  کی ہے اتنی تاکید اور کسی چیز کی نہ کی کہ مؤمن کے زبان،قلم، دل،دماغ سب کو انہیں مردہ کہنے سمجھنے سے روک دیا۔

۷؎  وَاَنَّ اللہَ لَا یُضِیۡعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیۡنَ" تک کی آیت نازل فرمائیں جن میں شہداء کا زندہ ہونا،جنت کی سیر کرنا،وہاں کے پھل فروٹ کھانا،دنیا والوں کے حالات سے خبردار رہنا جو لوگ کہ ابھی دنیا  میں ہیں مگر کچھ دنوں بعد ان سے ملنے والے ہیں ان کی آمد پر خوشیاں منانا لوگوں کے انجام سے خبردار ہونا،سب کچھ ہی بیان فرمایا۔ جب شہید کی زندگی اس کے عیش و آرام،اس کے علم کی یہ حالت ہے تو جن محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کے دم کی یہ ساری بہاریں ہیں ان کی حیات و علم کی کیا کیفیت ہے۔

3854 -[67]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ: الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِي يأمنه النَّاس على النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ عَلَى طَمَعٍ تَرَكَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ". رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دنیا میں مؤمن تین قسم کے ہیں ۱؎ ایک وہ جو اﷲ کے رسول پر ایمان لائیں پھر شک نہ کریں۲؎  اور اﷲ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں۳؎ اور وہ جس سے لوگ اپنے مالوں ا ور اپنی جانوں پر امن میں ہوں۴؎ پھر وہ کہ جب وہ طمع کے قریب پہنچے تو اسے اﷲ عزوجل کے لیے چھوڑدے ۵؎(احمد)

۱؎  قربان جاؤں اس سید الفصحاء صلی اللہ علیہ و سلم کے کہ حضور نے یہاں اقسام نہ فرمایا بلکہ اجزاء فرمایا کیونکہ کل کے اقسام و افراد ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے ہیں مگر کل کے اجزاء ایسے مخلوط ہو تے ہیں کہ ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہوتے جیسے سکنجین کے اجزاء، چونکہ یہ تینوں قسم کے مؤمن دنیا میں شکل و عقل،رنگ ڈھنگ وغیرہ میں ممتاز نہیں سب یکساں معلوم ہوتے ہیں،ظاہر میں یکساں،

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن