30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ لِتَنْکِحَ کا لام امر نہیں بلکہ لام کے معنی میں ہے اور یہ جملہ لِتَسْتَفْرِغَ پر معطوف ہے لہذا حدیث کا مطلب واضح ہے،عورت کو سوکن پر نکاح کرلینے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ پہلی کی طلاق کے مطالبہ سے روکا گیا اس لِتَنْکِحَ کا فاعل یا تو خود یہ عورت ہے یا اس کی سوکن یعنی تاکہ وہ شخص پہلی بیوی کو طلاق دے دے اور وہ کسی اور جگہ نکاح کرلے اور ہوسکتا ہے کہ لِتَنْکِحَ کا لام لام امر ہو اور معنی یہ ہوں کہ اس عورت کو چاہیے کہ اس مرد کی پہلی بیوی کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے بلکہ کسی اور سے نکاح کرے۔
۴؎ لہذا پہلی کو طلاق دلوانے سے اس کا اپنا نصیب بدل نہ جائے گا۔
|
3146 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ۱؎ شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح کرے اس شرط پر کہ وہ دوسرا اپنی بیٹی کا نکاح کردے ۲؎ اور ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو ۳؎(مسلم بخاری) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا اسلام میں شغار نہیں ۴؎ |
۱؎ شغار بنا ہے شغر سے،بمعنی شہر کا خالی ہوجانا یا کسی کو جگہ سے ہٹانا دور ہوجانا۔(اشعہ)
۲؎ بیٹی کا ذکر مثالًا ہے۔اس میں بہن بھتیجی بھانجی وغیرہ سب داخل ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن یا بھتیجی وغیرہ کا نکاح اس سے یا اس کے بیٹے وغیرہ سے کردے۔
۳؎ یعنی ہر نکاح دوسرے کا نکاح کا مہر ہو اس کے علاوہ اورکوئی مہر نہ ہو، خیال رہے کہ اگر یہ نکاح آپس میں ایک دوسرے کا مہر نہ ہوں صرف نکاح بشرط نکاح ہو تو بالاتفاق جائز ہے جیسا پنجاب میں عام طور پر ہوتا ہے کہ آمنے سامنے رشتہ لیا جاتا ہے،لیکن اگر کسی نکاح کا مہر نہ ہو،ہر نکاح دوسرے نکاح کا مہر ہو تو امام شافعی کے ہاں دونوں نکاح فاسد ہیں، ہمارے ہاں دونوں نکاح درست ہیں یہ شرط فاسد ہے ہر لڑکی کو مہر مثل ملے گا۔
۴؎ یعنی دور جاہلیت میں عرب میں نکاح شغار ہوتا تھا اسلام نے اسے منع فرمادیا،خیال رہے کہ اگر یہ شرط درست رہتی تو شغار بنتا جب احناف نے اس شرط کو باطل قرار دیا اور ہر لڑکی کو مہر مثل دلوایا تو شغار نہ رہا،لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں جیسے دیگر فاسد شروط سے نکاح فاسد نہیں ہوتا بلکہ شرط فاسد ہوجاتی ہے ایسے ہی یہ نکاح بھی بالشرط ہے، جس میں نکاح درست اور شرط فاسد ہے جیسے کوئی شخص سوریا شراب کے عوض نکاح کرے تو نکاح درست ہے یہ شرط فاسد ہے مہر مثل دیا جائے گا۔
|
3147 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أكل لُحُوم الْحمر الإنسية |
روایت ہے حضرت علی سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے متعہ سے منع فرمایا ۱؎ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے ۲؎(مسلم بخاری) |
۱؎ متعہ کے لغوی معنی ہیں نفع اسی سے ہے تمتع کرنایہ اسلام میں دو بار حلال ہوا، دوبار حرام۔چنانچہ فتح خیبر سے کچھ پہلے یہ حلال رہا اور خیبر کے دن حرام کردیا گیا پھر فتح مکہ کے سال جنگ اوطاس سے کچھ پہلے تین دن کے لیے حلال کیا گیا،پھر ہمیشہ کے لیے حرام کر دیا گیا،لہذا یہ حدیث آئندہ حدیث کے خلاف نہیں۔(از مرقات،نووی و اشعہ وغیرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع