30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3837 -[50] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ وَأَثَرَيْنِ: قَطْرَةِ دُمُوعٍ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَقَطْرَةِ دَمٍ يُهْرَاقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْأَثَرَانِ: فَأَثَرٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَثَرٌ فِي فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ تَعَالَى ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا اﷲ تعالٰی کو دو قطروں سے زیادہ کوئی چیز پیاری نہیں ایک آنسو کا قطرہ جو اﷲ کے خوف سے ۱؎ ہو ایک خون کا قطرہ جو اﷲ کی راہ میں بہایا جائے ۲؎ اور لیکن دو نشان قدم پس ایک وہ نشان قدم جو اﷲ کی راہ میں ہو۳؎ اور ایک وہ نشان قدم جو اﷲ کے فرائض میں سے کسی فرض میں ہو۴؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ خیال رہے کہ گنہگاروں کو رب تعالٰی کے عذاب سے خوف ہوتا ہے،نیکوکاروں کو اس کی ذات سے ہیبت و جلال سے خوف ہوتا ہے یہ خوف محبت و اطاعت پیدا کرتا ہے،یہ خوف اﷲ کی بڑی نعمت ہے اور خوف ایذاء جو نفرت پیدا کرتا ہے وہ خدا سے خوف کرنا کفر ہے جیسے سانپ یا ظالم حاکم سے خوف،دیکھو شیطان نے بھی کہا تھا "اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِیۡنَ"مگر یہ خوف مفید نہیں مضر ہے،یہاں پہلی قسم کے دو خوف مراد ہیں۔
۲؎ چونکہ آنسوؤں کے قطرے مسلسل آنکھوں سے ٹپکتے رہے اور خون ایک دم نکل کر بہہ جاتا ہے اس لیے آنسو کے لیے دموع جمع ارشاد ہوا اور خون کے لیے دم واحد فرمایا گیا۔قطرہ سے مراد جنس قطرہ ہے نہ کہ شخصی قطرہ لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں،بہت سے آنسوؤں کا قطرہ ایک کیونکر ہوگا اور شہید کے جسم سے خون کا دہارا بہتا ہے ایک قطرہ نہیں نکلتا۔
۳؎ اﷲ کی راہ سے ہر وہ راستہ مراد ہے جو رضاء الٰہی کے لیے طے کیا جائے جیسے نماز کے لیے مسجد کو جانا، طلب علم کے لیے مدرسہ جانا،جہاد کے لیے میدان جہاد میں جانا اور وہاں چلنا پھرنا۔نشان قدم سے عام نشان مراد ہے خواہ محسوس ہو یا نہ ہو لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ پختہ سڑک پر چلنے میں نشان قدم پڑتے ہی نہیں پھر پیاری کیا چیز ہوگی۔
۴؎ یعنی کسی شرعی فریضہ کو ادا کرنے کے لیے چلا اس کے نشان قدم رب کو پیارے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اثر سے مراد مطلقًا نشان ہو،قدم کی قید نہ ہو تو حدیث بہت جامع بھی ہوگی اور واضح بھی لہذا سردیوں میں وضو سے ہاتھ پاؤں پھٹ جائیں،گرمیوں میں پیشانی پر گرم زمین پر سجدے پڑ جاویں،روزے میں منہ کی بو،حج و جہاد میں غبارراہ جو کپڑوں اور منہ پر پڑ جائے،یہ رب کو بڑے پیارے ہیں،مرقات نے یہ ہی توجیہ اختیار کی۔
|
3838 -[51] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَرْكَبِ الْبَحْرَ إِلَّا حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دریا میں سوار نہ ہوا ۱؎ مگر حاجی ہو تو یا عمرہ کرنے والا یا غازی فی سبیل اﷲ ہوکر ۲؎ کیونکہ دریا کے نیچے آ گ ہے اور آگ کے نیچے دریا۳؎(ابوداؤد) |
۱؎ اس میں یا تو خطاب صرف حضرت عبداللہ ابن عمرو سے ہے کہ تم سوا ان تین ضرورتوں کے کبھی سمندر کا سفر نہ کرنا،اگرچہ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ جاتے ہوئے سمندر نہیں آتا،خشکی کا راستہ ہی ہے مگر آئندہ کے لیے فرمایا گیا کہ تم کبھی غزوہ میں سمندر پار چلے جاؤ تو وہاں سے حج کے لیے سمندر کا سفر کرسکتے ہو اور یا خطاب ان سارے مسلمانوں سے ہے جو اس زمانہ میں تھے جب کہ سمندری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع