30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ یا ستر سے مراد کثرت و زیادتی ہے یا ستر کا عدد،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔اقرباء سے مراد رشتہ دار اور دوست و احباب دونوں ہیں۔(مرقات)بشرطیکہ مسلمان ہوں کافرومشرک کا شفیع کوئی نہیں،جب شہید ستر۷۰ کی شفاعت کرے گا تو خاص علماءواولیاء اﷲ اور پھرحضورصلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت کا کیا پوچھنا ہے ۔ خیال رہے کہ رب تعالٰی کے عدل کے ظہور کے وقت یعنی اول قیامت صرف حضور ہی شفاعت فرمائیں گے۔اسے شفاعت کبریٰ کہا جاتا ہے اور پھر ظہور فضل کے وقت شہید وغیرہ شفاعت کریں گے لہذا شفیع المذنبین صرف حضور کا لقب ہے۔
|
3835 -[48] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ بِغَيْرِ أَثَرٍ مِنْ جِهَادٍ لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کوئی اﷲ سے ملے بغیر جہاد کی نشانی کے تو وہ اﷲ سے اس حال میں ملے گا کہ اس میں رخنہ ہوگا ۱؎(ترمذی، ابن ماجہ) |
۱؎ اس سے مراد یا وہ لوگ ہیں جن پر جہاد فرض ہو اورنہ وہ جہاد کریں نہ تیاری جہاد کریں نہ ارادہ جہاد،نہ کسی مجاہد کی مالی مدد کریں وہ قیامت میں اس کمال سے محروم ہوں گے جو مجاہدین کو حاصل ہوگا۔یا جہاد سے عام جہاد مراد ہے خواہ کفار سے جہاد ہو یا نفس ناہنجار سے یا شیطان سے یا نافرمان اولاد سے یا گنہگار بے شرم مسلمانوں سے کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی جہاد ہر مسلمانوں کو میسر ہوتا ہے لہذا حدیث کا مطلب واضح ہے اور اس حدیث کی بنا پر نہیں کہا جاسکتا کہ شریعت و طریقت کے چاروں امام،نیز بارہ امام اہل بیت کو جہاد میسر نہ ہوا،وہ بھی ناقص ہونے چاہئیں۔(معاذاﷲ!)
|
3836 -[49] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّهِيدُ لَا يَجِدُ أَلَمَ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ أَلَمَ الْقَرْصَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ شہید قتل کی تکلیف نہیں پاتا مگر اتنی جتنی کہ کوئی چیونٹی کے کاٹنے کی تکلیف پائے ۱؎(ترمذی،نسائی،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔ |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں شہید سے مراد حقیقی شہید یعنی ظلمًا مقتول خصوصًا جہاد میں کفار کے ہاتھ شہید یعنی شہید کو نزع کی شدت نہیں،نہایت معمولی چسک سی ہوتی ہے اور راہِ خدا میں جان دینے کی جو لذت ہے وہ تو ایسی ہے جو بیان میں نہیں آ سکتی،حتی کہ شہید بارگاہِ الٰہی میں پہنچ کر اس لذت کو حاصل کرنے کے لیے پھر دنیا میں آنا چاہتا ہے۔مرقات نے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ اس میں شہید حکمی بھی داخل ہو۔خیال رہے کہ بعض عشاق کو مرتے وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا جمال دکھایا جاتا ہے جس میں وہ ایسے وارفتہ ہوجاتے ہیں کہ انہیں نزع کی شدت محسوس نہیں ہوتی۔دیکھو مصر کی عورتوں نے جمال یوسفی میں محو ہو کر اپنے ہاتھ کاٹ لیے مگر ہائے وائے نہ کی کہ انہیں کچھ تکلیف محسوس نہ ہوئی،جمال محمدی میں محویت کا کیا عالم ہوگا،رب ہی جانے۔جب دہلی میں غازی عبدالرشید کو ایک گستاخ آریہ کے قتل کے عوض پھانسی دی گئی تو اولًا اس نے پھانسی کو چوما پھر جان نکلنے پر آیہ کریمہ "کُلُّ مَنْ عَلَیۡہَا فَانٍ وَّ یَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَ الْاِکْرَامِ"پڑھی اور ہنستے ہوئے جان خدا کے حوالے کردی۔عاشقوں کے حال نیارے،لہذا حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے اور ایسے مرنے والوں کو مرتے دیکھا بھی گیا ہے۔
|
3837 -[50] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ وَأَثَرَيْنِ: قَطْرَةِ دُمُوعٍ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَقَطْرَةِ دَمٍ يُهْرَاقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْأَثَرَانِ: فَأَثَرٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَثَرٌ فِي فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ تَعَالَى ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا اﷲ تعالٰی کو دو قطروں سے زیادہ کوئی چیز پیاری نہیں ایک آنسو کا قطرہ جو اﷲ کے خوف سے ۱؎ ہو ایک خون کا قطرہ جو اﷲ کی راہ میں بہایا جائے ۲؎ اور لیکن دو نشان قدم پس ایک وہ نشان قدم جو اﷲ کی راہ میں ہو۳؎ اور ایک وہ نشان قدم جو اﷲ کے فرائض میں سے کسی فرض میں ہو۴؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع