30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ عفیف اور متعف میں چند طرح فرق کیا گیا ہے:زنا سے بچنے والا عفیف،بھیک و سوال سے بچنے والا متعفف،اکیلا آدمی گناہ سے بچے وہ عفیف ہے،بال بچوں والا گناہ سے بچے وہ متعفف ہے،ظاہری گناہوں سے بچنے والا عفیف ہے،باطنی گناہوں سے بچنے والا متعفف ہے۔
۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ جسے دنیاوی الجھنیں زیادہ ہوں اس کی عبادت افضل ہے اس سے جو فارغ البال ہو، دیکھو انسان کی عبادت فرشتوں کی عبادت سے افضل ہے۔
|
3833 -[46] وَعَن عبدِ الله بنِ حُبَشيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «طُولُ الْقِيَامِ» قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «جُهْدُ الْمُقِلِّ» قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ» قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ» . قِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ: «مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ للنسائي: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أيُّ الأعمالِ أفضلُ؟ قَالَ: «إِيمانٌ لَا شكَّ فِيهِ وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ» . قِيلَ: فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «طُولُ الْقُنُوتِ» . ثمَّ اتفقَا فِي الْبَاقِي |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن حبشی سے کہ نبی کریم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے ۱؎ فرمایا دراز قیام۲؎ عرض کیا گیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے فرمایا فقیر کی طاقت۳؎ عرض کیا گیا کون سی ہجرت افضل ہے۴؎ فرمایا اس کی جو ان سب چیزوں کو چھوڑ دے جو اﷲ نے اس پر حرام کیں۵؎ عرض کیا گیا کون سا جہاد افضل ہے فرمایا اس کا جو کفار پر اپنے مال و جان سے کرے ۶؎ عرض کیا گیا کہ کون سا قتل اشرف ہے فرمایا جس کا خون بہا دیا جائے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں ۷؎ ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل بہترین ہے، فرمایا وہ ایمان جس میں تردد نہ ہو ۸؎ اور وہ جہاد جس میں خیانت نہ ہو ۹؎ اور پاکیزہ حج،عرض کیا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے ۱۰؎ فرمایا دراز قیام پھر باقی حدیث میں وہ دونوں متفق ہوگئے ۱۱؎ |
۱؎ یعنی نماز کے اعمال میں کون سا عمل افضل ہے۔
۲؎ بعض لحاظ سے نماز میں دراز قیام افضل ہے کہ اس میں مشقت زیادہ تلاوت قرآن بہت ہے اور بعض لحاظ سے دراز سجدہ افضل ہے کہ اس میں اظہار عجز زیادہ ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔بعض علماء نے فرمایا کہ رات کے نوافل تہجد وغیرہ میں لمبا قیام افضل ہے اور دن کے نوافل اشراق چاشت وغیرہ میں زیادہ سجدے افضل ہیں،یہ بہرحال حدیث میں تعارض نہیں اس کی کچھ بحث مرآۃ جلد اول کتاب الایمان میں گزرچکی ہے۔
۳؎ جھد جیم کے پیش ہ کے سکون سے بمعنی طاقت و قوت اور مقل اقلال سے بنا،بمعنی کم کرنا اور فقیر ہوجانا اس کا مادہ قلل ہے بمعنی کمی اس سے ہے قلت۔ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ غریب آدمی مشقت سے پیسہ کمائے پھر اس میں سے خیرات کرے۔دوسرے یہ کہ فقیر کو خود بھی ضرورت ہو خود مشقت وتکلیف میں ہو اس کے باوجود اپنی ضرورت روک کر خیرات کرے دوسرے کی ضرورت کو مقدم رکھے، مگر یہ دوسرے معنی اس فقیر کے لیے ہوں گے جو خود صابر ہو اور اکیلا ہو بال بچے نہ رکھتا ہو ورنہ آج خیرات کرکے کل خود بھیک مانگنا یوں ہی بال بچوں کے حقوق مارکر خیرات کرنا کسی طرح جائز نہیں۔ (مرقات) ہاں اگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع