30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ بمقابلہ دیہات کے شہر میں رہنا بہتر ہے کہ شہر میں بعض وہ عبادات نصیب ہوجاتی ہیں جو گاؤں میں میسر نہیں ہوتیں،ستر سال فرمانا بہت زیادہ کے لیے ہے جیسے فرمایا گیا کہ صف جہاد یا صف نماز میں کھڑا ہونا اﷲ کے نزدیک ستر سال کی عبادت سے افضل ہے۔(حاکم،مرقات)
۷؎ یعنی تم کو مغفرت تامہ اور جنت کا اولی داخلہ نصیب فرمادے۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ خلوت کی زندگی جلوت کی زندگی سے بہتر گوشہ کمال نہیں۔خصوصًا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں جن احادیث میں گوشہ نشینی کو افضل فرمایا گیا وہاں فتنوں کے زمانہ کی گوشہ نشینی مرادہے۔(لمعات و اشعہ)
۸؎ فواق فاقہ کی تفسیر ابھی کچھ پہلے عرض کی جاچکی ہے کہ اس سے مرادیا صبح شام کا دوہنے کا فاصلہ ہے یا ایک بار دوہنے میں جو کچھ فاصلہ کیا جاتا ہے وہ مراد ہے،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
|
3831 -[44] وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عثمان سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اﷲ کی راہ میں ایک دن گھوڑا باندھنا ۱؎ اس کے ماسوا دوسری منزلوں میں ایک ہزار دن سے افضل ہے ۲؎(ترمذی، نسائی) |
۱؎ اسلامی سرحد پر کفار کے مقابلہ میں گھوڑا باندھنا وہاں جہاد کے لیے تیار رہنا۔
۲؎ یہ افضَلیت اس صورت میں ہے کہ جہاد فرض عین ہوچکا ہو یا اسلامی سرحد پر بہت خطرہ ہو،وہاں سے مسلمانوں کے ہٹ جانے سے اسلامی ملک خطرہ میں پڑ جائے،امن و سکون کے حالات میں دوسری منازل اس سے افضل ہوسکتی ہیں لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ نماز کے بعد نماز کا انتظار اور مسجد میں حاضری کی پابندی یہ رباط ہے یہ رباط ہے یہ رباط ہے۔
|
3832 -[45] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "عَرَضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: شَهِيدٌ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ وَعَبَدٌ أَحْسَنَ عبادةَ اللَّهِ ونصح لمواليه ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مجھ پر وہ تین شخص پیش کیے گئے جو جنت میں پہلے داخل ہوں گے ۱؎ شہید، پاکدامن،پاکباز ۲؎ اور وہ غلام جو اﷲ کی عبادت اچھی طرح کرے اور اپنے مولاؤں کی خیر خواہی کرے ۳؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی مجھے وہ تین قسم کے آدمی دکھائے گئے جو بعد انبیاء کرام دوسرے جنتیوں سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ اس ترجمہ سے تمام اعتراضات اٹھ گئے۔خیال رہے کہ جنت میں سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لے جائیں گے،پھر دوسرے انبیاءکرام،پھر سب سے پہلے حضور کی امت جائے گی،پھر دوسری امتیں۔ حضور کی امت میں داخلہ ترتیب سے ہوگا کہ بعض حضرات بعض سے پہلے۔یہ بھی خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے آگے حضرت بلال ہٹو بچوکرتے جنت میں داخل ہوں گے اور حضور انور کے ساتھ حضرت صدیق اکبر و فاروق داخل ہوں گے مگر یہ داخلہ حضور کی اتباع میں ہوگا،دولہا کے ساتھ اس کے دوست اور خاص خادم بھی نعمتوں سے نوازے جاتے ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ظاہری آنکھوں سے تاقیامت جنتیوں اور دوزخیوں کو ملاحظہ فرمالیا تھا جیساکہ لفظ عرض سے ظاہر ہے،یہاں اولیت اضافی ہے اور تین سے مراد شخص تین نہیں بلکہ نوعی تین ہیں ان تین میں کروڑوں مسلمان ہوں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع