دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۲؎  اسی طرح جو آنکھ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم میں روئے ان شاءاﷲ بخشی جائے گی،دو نعمتیں بڑی شاندار ہیں خوف خدا عشق مصطفی۔شعر

ذرہ عشق نبی از حق طلب        سوز صدیق و علی از حق طلب

۳؎ اسی طرح کہ سفر جہاد کا غازی سو جاوے،یہ بندہ ان کا پہرہ دے تاکہ کفار شب خون نہ مار سکیں یہ رات جاگ کر گزارے۔

3830 -[43]

وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: مَرَّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِعْبٍ فِيهِ عُيَيْنَةٌ مِنْ مَاءٍ عَذْبَةٌ فَأَعْجَبَتْهُ فَقَالَ: لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ فَأَقَمْتُ فِي هَذَا الشِّعْبِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ مَقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ الله أفضل من صلَاته سَبْعِينَ عَامًا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمُ الْجَنَّةَ؟ اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبت لَهُ الْجنَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب ایک گھاٹی پرگزرے جس میں میٹھے پانی کا چھوٹا چشمہ تھا ۱؎  وہ چشمہ انہیں پسند آیا ۲؎  تو بولے کاش میں لوگوں سے علیٰحدہ ہوجاتا تو اس گھاٹی میں ہی قیام کرلیتا۳؎ یہ واقعہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا گیا۴؎  تو فرمایا یہ نہ کرو ۵؎ کیونکہ تم میں سےکسی کا اﷲ کی راہ میں پھرنا اپنے گھر ستر سال تک نمازیں پڑھتے رہنے سے افضل ہے ۶؎  کیا تم نہیں چاہتے اﷲ تمہیں بخشے اور تمہیں جنت میں داخل کرے ۷؎ اﷲ کی راہ میں جہادکرو جو اﷲ کی راہ میں اونٹنی کے دوہنے کے فاصلہ کی برابر جہاد کرے اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۸؎(ترمذی)

۱؎  شعب یعنی گھاٹی پہاڑ کے شگاف کو کہتے ہیں خواہ آر پار ہو یا آگے سے بندعرب میں ایسی جگہ بہت ہی قدر کی نظر سے دیکھی جاتی ہے جہاں سبزہ بھی ہو اور میٹھے پانی کا چشمہ بھی اور جگہ محفوظ بھی۔

۲؎ دل چاہا کہ مدینہ منورہ چھوڑ کر اپنی بکریاں بھیڑیں لے کر یہاں آن بسیں جیسا کہ آگے آرہا ہے۔

۳؎ تاکہ اطمینان سے عبادت الٰہی کرتا اور لوگوں کے اختلاط سے بچ جاتا،یہ اختلاط ہزار ہا غفلتوں گناہوں کا سبب ہے ان کا یہ ارادہ بھی نیت خیر سے تھا۔

۴؎ یا تو فذکر معروف ہے تو اس کا فاعل خود وہ صحابی ہیں جن کا یہ ارادہ تھا یا مجہول ہے تو ذکر کرنے والے کوئی اور صحابی ہیں یعنی خود انہوں نے یہ ارادہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا یا حضور سے عرض کیا گیا دونوں روایتیں ہیں۔

۵؎ یعنی نفلی عبادت کے لیے فرض و واجب عبادات نہ چھوڑو کہ یہاں رہ کر تم نماز جماعتوں،جمعہ،عیدین اور جہاد،تبلیغ وغیرہ عبادات سے محروم ہوجاؤ گے۔اس سے معلوم ہوا کہ جو نفلی عبادات فرائض چھوڑا دے وہ گناہ ہے،اگر نماز تہجد سے فرض کی نماز قضا یا جماعت ترک ہوجاوے تو تہجد نہ پڑھو۔پنجگانہ نماز جماعت سے پڑھو۔ یہ بڑا اصولی مسئلہ ہے یاد رکھنا چاہیے،بعض لوگ عام جلسوں جلوسوں کی وجہ سے رات کو زیادہ جاگتے ہیں جس سے فجر کی جماعت نہیں پاتے وہ اس سے عبرت پکڑیں۔

۶؎  یعنی تمہارا شہر مدینہ میں رہنا جہاں جہاد بھی نصیب ہوتا رہے اور حضور پرنور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت آپ کے پیچھے نمازیں میسر ہوگی،یہاں جنگل میں گھر بنا کر بیٹھنے سے بہت ہی زیادہ افضل ہے،یہاں مرقات نے فرمایا کہ شاید وہ صحابی فرضی جہاد سے فارغ ہوچکے ہوں گے اور اس زمانہ میں فی الحال جہاد فرض عین نہ ہوگا اس لیے افضل فرمایا،ورنہ حضور سخت منع فرماتے۔اس سے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن