دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۲؎ یعنی رب تعالٰی نے اپنے ذمہ کرم پر لازم فرمالیا کہ اسے اول ہی سے جنت میں داخل فرمائے گا گناہوں کی سزا کے لیے اسے دوزخ میں نہ رکھے گا کیونکہ اس کے گناہ اس جہاد کی برکت سے معاف ہوچکے،جب پل بھر کے جہاد کا یہ درجہ ہے تو غورکرو کہ جو ہمیشہ جہاد میں رہے اس کا مرتبہ کیا ہوگا۔

۳؎ لغت میں نکبۃ معمولی حادثہ یا تکلیف کو کہتے ہیں زخم ہو یا اور کوئی تکلیف،یہاں جراحت سے مراد وہ زخم ہے جو کفار کے ہاتھوں غازی کوپہنچے اور نکبت سے مراد وہ زخم ہے جو گھوڑے سے گر جانے یا اپنا ہتھیار لگ جانے سے غازی کو پہنچے۔مرقات نے اس کو ترجیح دی جیسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی انگلی پاک میں ایک دفعہ خون نکل آیا تھا تو فرمایا تھا۔شعر

ھل انت الا اصبع و دعیت                               وفی سبیل اﷲ ما نقیت

۴؎  یعنی تازہ زخم جتنا سرخ تھا اس سے زیادہ سرخ ہوگا۔حق یہ ہے کہ انھا کی ضمیر صرف نکبۃ کی طرف ہے۔مقصد یہ ہے کہ جب جہاد میں اتفافی لگی ہوئی چوٹ کا یہ درجہ ہے تو کفار کے ہاتھوں لگے ہوئے زخم یا قتل کا کیا مرتبہ ہوگا،بعض شارحین نے فرمایا کاغزر کا کاف زائدہ ہے۔

۵؎ اس طرح کہ زخم کی سرخی میں زعفرانی زردی جھلکتی ہوگی جس سے اس کا حسن زیادہ ہوگا اور اس کی خوشبو سے وہ میدان مہکتا ہوگا جہاں جہاں یہ غازی کھڑا ہوگا۔یہ قیامت میں ہوگا اس علامت سے غازی پہنچانا جائے گا اور اس کا احترام کیا جائے گا۔

۶؎  خراج  خ کے پیش سے جسم میں سے ابھر آنے والی چیز جسے اپھارہ کہا جاتا ہے جیسے پھڑیا پھنسی آبلہ وغیرہ یعنی اگر غازی کے جسم پر میدان جہاد میں کوئی قدرتی پھڑیا پھنسی نکل آوے نہ کسی کافر کی طرف سے چوٹ لگی ہو نہ کسی اور وجہ سے۔

۷؎  طابع بنا ہے طبع سے بمعنی چھپنا مہر لگنا"طَبَعَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ"۔مطلب یہ ہے کہ قدرتی پھڑیا پھنسی بھی اگر غازی کو نکل آئے تو اس پر شہید کی نشانی ہوگی،اسے شہیدوں کے زمرہ میں داخل کیا جاوے گا، ان کا سا احترام ہوگا کیونکہ اس نے اﷲ کی راہ میں کوشش تو کی ہے۔

3826 -[39]

وَعَن خُرَيمِ بن فاتِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُتبَ لَهُ بسبعمائةِ ضعف» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت خریم ابن فاتک سے ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو اﷲ کی راہ میں کچھ خرچ کرے تو اس کے لیے سات سو گنا لکھا جاتا ہے۔(ترمذی،نسائی)۲؎

۱؎ آپ خریم ابن احزم ابن شداد ابن عمرو ابن فاتک ہیں ۔غزوہ بدر میں اپنے بھائی سبرہ کے ساتھ شریک ہوئے یہ ہی قوی ہے،بعض مؤرخین نے کہا کہ آپ فتح مکہ کے دن اپنے بیٹے ایمن ابن حزیم کے ساتھ ایمان لائے مگر یہ درست نہیں،آخر میں شام میں قیام رہا۔(کمال،اشعہ)

۲؎ اﷲ کی راہ میں خرچ سے مراد ہر دینی کام میں خرچ ہے جہاد ہو یا حج یا طلباء و علماء کی خدمت،زکوۃ، فطرہ، قربانی اور تمام نفلی صدقات کہ ان کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ہے۔اس حدیث کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہے "مَثَلُ الَّذِیۡنَ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن