30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3817 -[31] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ: «أَحَي والدك؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت مانگی تو فرمایا کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں عرض کیا ہاں ۱؎ فرمایا تو انہیں ہی میں جہاد کر ۲؎(مسلم، بخاری) اور ایک روایت یہ ہے کہ اپنے ماں باپ کی طرف لوٹ جا ان سے اچھا برتاؤ کر ۳؎ |
۱؎ غالب یہ ہے کہ اس کے ماں باپ کو اس کی خدمت کی حاجت تھی،وہ اکیلا بیٹا خدمت گار تھا اور جہاد اس وقت فرض عین نہ تھا فرض کفایہ تھا،ایسی صورت میں ماں باپ کی خدمت جہاد پر مقدم ہے،اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو جہاد مقدم ہے۔
۲؎ یہاں جہاد سے مراد لغوی جہاد ہے بمعنی مجاہدہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا"اس سے مراد ہے جہادبالنفس۔
۳؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی جہاد کے لیے بغیر والدین کی اجازت کے نہیں جانا چاہیے،اگر جہاد فرض ہو تو بہتر ہے کہ ان سے اجازت لے لے لیکن اگر وہ اجازت نہ دیں تو بھی چلا جاوے،اگر وہ منع کریں گے تو وہ گنہگار ہوں گے یہ حکم مؤمن والدین کے لیے ہے،کافر ماں باپ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں خواہ جہاد فرض ہو یا یا نفل۔خیال رہے کہ مسلمان ماں باپ کی اجازت کے بغیرکسی نفلی عبادت کے لیے نہ جاوے جیسے نفلی حج،نفلی عمرہ،زیارت وغیرہ حتی کہ اگر مسلمان ماں باپ اجازت نہ دیں نفلی روزہ بھی نہ رکھے۔چنانچہ ابوداؤد نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے روایت کی کہ ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا بولا میں ہجرت پر بیعت کرنے آیا ہوں والدین روتے رہ گئے ہیں فرمایا واپس جاؤ جیسے انہیں رُلا کر آئے ویسے ہی انہیں ہنساؤ،اسی ابوداؤد نے بروایت حضرت ابوسعید خدری روایت کی ہے کہ یمن سے ایک شخص ہجرت کرنے مدینہ منورہ حاضر ہوا اس سے حضور نے پوچھا کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں عرض کیا ہاں،فرمایا تو ان سے پوچھ کر آیا ہے بولا نہیں،فرمایا واپس جاؤ،اجازت لے کر آؤ،اگر اجازت نہ دیں تو ان کی خدمت کرو۔(مرقات)
|
3818 -[32] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْم الْفَتْح:«اهجرة بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فانفروا» |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں کہ حضور نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ فتح کے بعد ہجرت نہیں ۱؎ لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم کو جہاد کے لیے نکالا جائے تو نکل جاؤ ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی فتح مکہ کے بعد مکہ معظمہ سے ہجرت کرجانا ضروری نہیں کیونکہ اب مکہ معظمہ میں مشرکین نہیں،اب وہاں مسلمانوں کو مذہبی آزادی ہے یہ مطلب نہیں کہ کسی جگہ سے کبھی ہجرت نہیں ہوگی۔لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔جن میں ارشاد ہے کہ ہجرت تاقیامت جاری ہے۔خیال رہے کہ دارالکفر سے جہاں اسلامی آزادی بالکل نہ ہو،ہجرت کر جانا فرض ہے بشرطیکہ طاقت ہو اور جہالت کی جگہ سے علم کی جگہ گناہوں کی جگہ سے توبہ کی جگہ ہجرت کرجانا مستحب ہے۔(مرقات)
۲؎ یعنی اگر جہاد کبھی فرض ہوجائے اور اسلامی حکومت کی طرف سے اعلان عام ہو تو جہاد کے لیے نکلنا فرض ہے یہ حکم وجوبی ہے اور اس وقت کے لیے ہے کہ جب جہاد فرض عین ہوچکا ہو اس لیے صیغہ جمع ارشاد ہوا یعنی سب نکل جاؤ،رب فرماتاہے:"اِنْفِرُوۡا خِفَافًا وَّثِقَالًا وَّجٰہِدُوۡا بِاَمْوٰلِکُمْ وَاَنۡفُسِکُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ"۔خیال رہے کہ نیت سے مراد ہے ازروئے جہادکرنا یا ارادۂ جہاد۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع