30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ کلمۃاﷲ سے مراد کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ ہے یعنی اسلام کی اشاعت کرنے اور کفر کا زور توڑنے کے لیے جہاد ہو۔خیال رہے کہ خدمت دین کے ساتھ غنیمت کی نیت بھی ہونا مضر نہیں مگر کمال اس میں ہے کہ خالص خدمت دین کی نیت ہو غنیمت بلکہ جنت حاصل کرنے کا بھی ارادہ نہ ہو۔
|
3815 -[29] وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: «إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «إِلَّاشَرِكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ».قَالُوا:يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ: «وهُم بالمدينةِ حَبسهم الْعذر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ 3816 -[30] وَرَوَاهُ مُسلم عَن جَابر |
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے ۱؎ مدینہ منورہ سے قریب ہوئے تو فرمایا کہ مدینہ میں کچھ ایسی قومیں بھی ہیں ۲؎ کہ تم چلے اورتم نے کوئی جنگل طے نہ کیا مگر وہ تمہارے ساتھ تھے۳؎ ایک روایت میں یوں ہے کہ مگر وہ ثواب میں وہ تمہارے شریک ۴؎ لوگوں نے کہا یارسول اﷲ وہ رہے مدینہ ہی میں فرمایا وہ رہے مدینہ ہی میں جن کو معذوری نے روک لیا ۵؎ (بخاری) اور مسلم نے روایت کیا حضرت جابر سے۔ |
۱؎ تبوک مدینہ منورہ سے چھ سو ساٹھ میل دور جانب شام ہے اس طرح کہ ایک سو ساٹھ میل خیبر ہے اور خیبر سے پانچ سو میل تبوک سے کچھ فاصلہ پرمان ہے پھر مان کے بعد عمان ہے اردن کا دارالخلافہ،فقیر نے خیبر کی تو باقاعدہ زیارت کی ہے مگر تبوک اور مان پر ہوائی جہاز سے پرواز کی ہے عمان اور بیت المقدس جاتے ہوئے،غزوہ تبوک حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری غزوہ ہے۔جیساکہ اشعہ نے فرمایا۔
۲؎ یعنی مختلف جماعتوں و قبیلوں کے مسلمان وہ بھی ہیں جو اس غزوہ میں جانے کی دل سے تمنا کرتے تھے مگر کسی سخت مجبوری کی وجہ سے نہ جاسکے۔
۳؎ اس طرح کہ جسم ان کے مدینہ میں رہے اوردل تمہارے ساتھ جہاد میں رہے،نیز ان کی نیت ان کے ارادے تمہارے ساتھ رہے یا وہ اجروثواب میں تمہارے ساتھ رہے کہ تمہارے پیچھے تمہارے گھر بار کی دیکھ بھال اور تمہارے بال بچوں کی خدمت کرتے رہے۔
۴؎ اس طرح کہ نفس ثواب میں تمہارے ساتھ شریک رہے اگرچہ عملی جہاد میں تم ان سے بڑھ گئے۔اس وجہ سے غنیمت میں ان کا حصہ نہ ہوگا،رب فرماتاہے:"وَفَضَّلَ اللہُ الْمُجٰہِدِیۡنَ عَلَی الْقٰعِدِیۡنَ اَجْرًا عَظِیۡمًا دَرَجٰتٍ مِّنْہُ وَمَغْفِرَۃً وَّرَحْمَۃً"۔اس سے معلوم ہوا کہ نیت خیر کا بڑا درجہ ہے،اس طرح کسی نیکی سے رہ جانے پر افسوس کرنا بھی ثواب ہے۔
۵؎ معذوری سے مراد واقعی معذوری ہے،جو بعض مخلص صحابہ کو تھی،بناوٹی معذوری نہیں جو بہانہ باز منافقین نے ظاہر کی تھی ان پر تو سخت عتاب فرمایا گیا دیکھو سورۂ توبہ۔
|
3817 -[31] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ: «أَحَي والدك؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت مانگی تو فرمایا کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں عرض کیا ہاں ۱؎ فرمایا تو انہیں ہی میں جہاد کر ۲؎(مسلم، بخاری) اور ایک روایت یہ ہے کہ اپنے ماں باپ کی طرف لوٹ جا ان سے اچھا برتاؤ کر ۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع