30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یہ شعر نہ تو کسی کافر کا ہے کہ کافر کو حضور کی نعت سے کیا تعلق نہ ان بچیوں کا کہ بچیاں اشعار بنانا نہیں جانتیں یقینًا کسی صحابی کا ہے۔معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضور کے علم غیب کے معتقد تھے،حضور کی ازواج پاک نے پوچھا تھا کہ آپ کے بعد ہم میں سب سے پہلے کون آپ کے پاس پہنچے گی،شہیدوں کی مائیں پوچھتی تھیں کہ میرا بچہ کہاں ہے،کس حال میں ہے ؟ بہرحال صحابہ علم غیب کے معتقد تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شاعر کو مشرک یا کافر نہ فرمایا نہ اس شعر کو برا کہا۔
۵؎ کیوں چھوڑ دو یا اس لیے دف اور کھیل کے دوران نعت شریف نہ چاہیے کہ اس میں نعت کی بے ادبی ہے(اشعہ)یا اس لیے کہ مرثیہ کے دوران نعت نہ پڑھو نعت و مرثیہ ملانا اچھا نہیں،یا اس لیے کہ ہمارے سامنے ہماری تعریف کیوں کرتی ہو یا علم غیب کی نسبت ہماری طرف نہ کرو ا گرچہ ہم کو رب تعالٰی نے علم غیب دیا مگر ہم کو عالم الغیب وغیرہ نہ کہو۔(ازمرقاۃ) دیکھو عیسی علیہ السلام کو خالق نہیں کہتے مگر قرآن کریم میں ہے:"اَنِّیۡۤ اَخْلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ"الایہ۔غرضکہ اس حدیث میں وہابی دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
۶؎ معلوم ہوا کہ یہ گیت درست تھے اور ان کا گانا ان بچیوں کے لیے مباح تھا یہ امر اباحت کا ہے۔
|
3141 -[2] وَعَن عَائِشَة رَضِي الله عَنهُ قَالَتْ: زُفَّتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ؟ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمُ اللَّهْو» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت اپنے انصاری خاوند کے ہاں بھیجی گئی۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ کوئی کھیل نہ تھا کیونکہ انصار کو کھیل پسند ہے ۲؎(بخاری) |
۱؎ یعنی انصاری بی بی اپنے شوہر کے گھر رخصت ہو کر گئیں ان بزرگوں کے نام معلوم نہ ہوسکے۔
۲؎ یہاں کھیل سے مراد بچیوں کے گیت ہیں یا بالغہ عورتوں کے پست آواز سے جائز اشعار پڑھنے کی آواز گھر سے باہر نہ آئے اور غیر لوگ نہ سنیں،انہیں کھیل اس لیے کہا گیا کہ باعث سرور ہیں جیسے تیر اندازی گھوڑے بازی اپنی بیوی سے خوش طبعی کو لہو فرمایا گیا۔حرام کھیل تماشے گانے باجے مراد نہیں لہذا چکڑالوی اس پر اعتراض نہیں کرسکتے۔معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موقعہ پر گیت انصار کو پہلے سے ہی پسند تھے اس پسندیدگی پر اعتراض نہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ پسندیدگی بری نہیں۔
|
3142 -[3] وَعَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟ . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح بھی شوال میں کیااور زفاف بھی ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیوی مجھ سے زیادہ محبوبہ تھی ۲؎ (مسلم) |
۱؎ اہل عرب شوال کے مہینہ میں نکاح یا رخصتی منحوس جانتے تھے اور کہتے تھے کہ اس مہینہ کا نکاح کامیاب نہیں ہوتا میاں بیوی کے دل نہیں ملتے۔کہتے تھے کہ شوال بنا ہے شول سے جس کے معنی ہیں مٹانا دور کرنا، زمین پر کھینچنا آپ ان کے اس خیال کی تردید فرمارہی ہیں،بعض روافض بھی دو عیدوں کے درمیان اور محرم میں نکاح کو منحوس مانتے ہیں یہ سب وہم باطل ہے۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع