30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3813 -[27] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُو وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ نفاق» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو مرجائے اور نہ تو جہاد کرے ۱؎ ا ور نہ اپنے دل میں اس کا خیال کرے ۲؎ تو نفاق کے حصے پر مرے گا ۳؎(مسلم) |
۱؎ یا اس طرح کہ اس کی زندگی میں جہاد ہوا ہی نہیں یا اس طرح کہ جہاد تو ہو مگر یہ شریک نہ ہو یا نہ ہوسکے غرضیکہ اس فرمان عالی کی کئی صورتیں ہیں۔
۲؎ نفسہ سے پہلے فی پوشیدہ ہے اور خیال کرنے سے مراد یا جہاد کی تمنا کرنا ہے یا تیاری جہاد کرنا ہے پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں نیکی کی تمنا بھی باعث ثواب ہے گناہ کی تمنا بھی گناہ۔
۳؎ یعنی ایسا آدمی منافق سے مشابہ ہوگا جو جہاد سے بہت بچتے تھے اور جو کسی قوم سے مشابہت رکھے وہ اسی قوم سے شمار ہوتا ہے۔حضرت عبداﷲ ابن مبارک وغیرہ محدثین نے فرمایا کہ یہ فرمان عالی زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق ہے کہ اس زمانہ میں جہاد سے بے گانہ رہنا منافقین کی علامت۔(مرقات و نووی) جیسے حدیث پاک میں ہے"من ترك الصلوۃ متعمدًا فقد کفر" جو دانستہ طور پر نماز چھوڑے کافر ہے،یہ بھی اسی زمانہ پاک کے متعلق ہے کہ اس زمانہ میں بے نمازی ہونا کفار کا نشان تھا،فرماتے ہیں کہ مؤمن اور کافر کے درمیان فرق نماز ہے،بعض محدثین فرماتے ہیں کہ یہ حکم ہر زمانہ کے متعلق ہے۔مطلب یہ ہے کہ جہاد کا خیال بھی دل میں نہ لانا نفاق پیدا کرتا ہے۔(مرقات) جیسے ارشاد ہوا کہ گانا بجانا بلکہ گانے کی آواز رغبت سے سننا دلی نفاق اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کا سیل گھاس کو۔اسی حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ جہاد فرض عین ہے مگر حق یہ ہے کہ بعض حالات میں فرض عین ہوتا ہے اکثر حالات میں فرض کفایہ۔
|
3814 -[28] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أبي مُوسَى قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ الله» |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ ایک شخص غنیمت کے لیے جہاد کرتا ہے ۱؎ اور ایک شخص اپنی شہرت چرچے کے لیے ۲؎ اور ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کا درجہ دیکھا جاوے ۳؎تو اﷲ کی راہ میں مجاہد کون ہے فرمایا وہ ہے جو صرف اس لیے جہاد کرے کہ اﷲ تعالٰی کا کلمہ بلند ہوجائے۴؎ وہ اﷲ کی راہ میں مجاہد ہے۔ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی صرف مال غنیمت حاصل کرنے یا ملک جیتنے اور وہاں راج کرنے کی نیت سے جہاد کرتا ہے،رضاءالٰہی کی نیت نہیں کرتا جیسا کہ آج کل عمومًا جنگ کے وقت ملک وقوم کی خدمت کا نام لیتے ہیں،اﷲ کے دین کی خدمت کا ذکر تک نہیں کرتے اس لیے بچنا چاہیے۔
۲؎ یعنی صرف اس لیے جہاد کرتا ہے کہ لوگوں میں اس کی بہادری کا چرچا ہو اور اسے شہرت و عزت حاصل ہو،کفار کو اپنی شجاعت دکھانا ان کے مقابل اپنی شان و بہادری بیان کرنا عبادت ہے۔
۳؎ لیری کی تین قرأتیں ہیں:باب فتح کا مضارع مجہول،باب افعال کا مضارع معروف اور باب فتح کا مضارع معروف یعنی تاکہ اس کا درجہ دیکھا جاوے یا لوگوں کو اپنا درجہ شجاعت دکھائے مسلمانوں کو یا تاکہ وہ اپنی جنت کی جگہ دیکھ لے یعنی صرف جنت حاصل کرنے کے لیے جہاد کرتا ہے۔(مرقات و اشعہ) تیسرے معنی صوفیانہ ہیں۔صوفیاء کے نزدیک جنت حاصل کرنے یا دوزخ سے بچنے کے لیے بھی عبادت نہ کی جائے،صرف جنت والے رب کو راضی کرنے کے لیے عبادت کرنی چاہیے،جب وہ راضی ہوگیا تو سب کچھ مل جائے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع