30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یعنی جہان طاعون پھیلے وہاں سے بھاگ نہ جائے اور طاعون سے مرجائے وہ بھی شہید ہے کیونکہ وہ جنات کا مقتول ہے۔طاعون بنا ہے طعن سے بمعنی نیزہ مارنا طاعون والے کو محسوس ہوتا ہے کہ میرے جسم میں کوئی نیزے مار رہا ہے اس لیے اسے طاعون کہتے ہیں لہذا یہ شخص شہید ہوتا ہے۔
۶؎ پیٹ کی بیماریوں سے مرنے والا حکمًا شہید ہوتا ہے جیسے دست،درد،استسقاء،چونکہ ان بیماریوں میں تکلیف زیادہ ہوتی ہے کہ پیٹ کی خرابی تمام بیماریوں کی جڑ ہے اس لیے اس سے مرنے والا حکمًا شہید ہے۔حضرت جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ نے حکمی شہداء کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے جس میں فرمایا ڈوب کر ہلاک ہونے والا،جل کر،دیوار وغیرہ سے دب کر مرنے والا،مسافر،مرابط،جو جمعہ کی رات یا دن میں مرے یہ سب شہید ہیں کہ قیامت میں شہداء کے زمرہ میں اٹھیں گے۔(مرقات) یہ سب کرامتیں حضور کی طفیل ہیں۔
۷؎ طبرانی نے کبیر میں بروایت سلمان فارسی حدیث نقل کی کہ حضور انور نے اس جواب میں فرمایا کہ اس کی راہ میں قتل طاعون، عورت کا نفاس میں مرجانا،جل کر مرنا،ڈوب کر مرنا،پیٹ کی بیماری سے مرنا،سل کی بیماری سے مرنا،یہ تمام شہادت ہیں۔ (مرقات)
|
3812 -[26] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ غَازِيَة أَو سَرِيَّة تغزو فتغتنم وَتَسْلَمُ إِلَّا كَانُوا قَدْ تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أُجُورِهِمْ وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تَخْفُقُ وَتُصَابُ إِلَّا تمّ أُجُورهم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں ہے غازیوں کا کوئی چھوٹا بڑا لشکر ۱؎ جو جہاد کرے تو غنیمت پالے اور سلامت رہے مگر وہ اپنے ثواب کے دو تہائی حصے فورًا حاصل کرلیتے ہیں ۲؎ اور نہیں ہے کوئی غازیوں کی چھوٹی بڑی فوج جو ناکام رہے اور تکلیف دی جائے ۳؎ مگر ان کے ثواب پورے ہوجاتے ہیں ۴؎(مسلم) |
۱؎ چار سوغازیوں تک کا لشکر سریہ کہلاتا ہے اس سے بڑا لشکر فوج،نیز جس جہاد میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم شرکت نہ فرماویں وہ سریہ ہے اور جس میں حضور بنفس نفیس شرکت فرمادیں وہ غزوہ۔(مرقات و اشعہ) یعنی آئندہ حکم ہر چھوٹے بڑے لشکر کے لیے ہے۔
۲؎ کیونکہ جہاد میں رب کی طرف سے تین نعمتیں ملتی ہیں،سلامتی ،غنیمت،ثواب و اجر پہلی دو نعمتیں دنیا میں اور آخری نعمت ثواب و اجر آخرت میں۔
۳؎ یخفق بنا ہے خفق سے بمعنی مجاہد کا بغیر غنیمت ہونا یا شکاری کا بغیر شکار واپس لوٹنا،تکلیف سے مراد زخم و شہادت اور دوسری تمام تکالیف ہیں جو عمومًا جہاد میں پیش آتی ہیں یعنی جو غازی غنیمت تو حاصل نہ کرسکے زخمی یا شہید ہوجائے۔
۴؎ یعنی اسے یہ تینوں چیزیں آخرت میں ملیں گی۔خیال رہے کہ غنیمت اور سلامتی کو اجر فرمانا اس لیے ہے کہ غزوہ میں یہ بھی رب تعالٰی کا عطیہ ہوتا ہے ورنہ غازی کا جہاد سلامتی اور غنیمت کے لیے نہیں ہوتا وہ تو صرف اعلاء کلمۃ اﷲ کے لیے جہادکرتا ہے۔
|
3813 -[27] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُو وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ نفاق» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو مرجائے اور نہ تو جہاد کرے ۱؎ ا ور نہ اپنے دل میں اس کا خیال کرے ۲؎ تو نفاق کے حصے پر مرے گا ۳؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع