30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ یہ ہے شوق شہادت کہ اب اپنی زندگی بھی بوجھ معلوم ہورہی ہے یا یہ عمل ہے حضور کے اس فرمان عالی پر کہ قوموا الی جنۃ، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ"۔
۹؎ اور اپنے مقصد کو پہنچ گئے،نیت خیر سے موت کی تمنا،موت کی دعا،موت حاصل کرنے کی ایسی کوشش بھی عبادت ہے۔شعر
جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے نظارہ تیرا
|
3811 -[25] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ قَالَ: " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لِقَلِيلٌ: مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فهوَ شهيدٌ ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم لوگ اپنے میں شہید کسے گنتے ہو ۱؎ عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جو راہِ خدا میں مارا جائے تو وہ شہید ہے ۲؎ فرمایا تب تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۳؎ جو اﷲ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اﷲ کی راہ میں مرجائے وہ شہید ہے۴؎ اور جو طاعون میں مرجائے وہ شہید ہے ۵؎ اور جو پیٹ کی بیماری میں مرجائے وہ شہید ہے ۶؎(مسلم) ۷؎ |
۱؎ یہاں عد بمعنی شمار کرنا بھی ہوسکتا ہے اور بمعنی گمان کرنا بھی لہذا متعدی ہر دو مفعول ہے اور ما جنس کے سوال کے لیے بھی آتا ہے نوع کے سوال کے لیے بھی اور کسی وصف کے لیے بھی اور افراد کے سوال کے لیے بھی یہاں تمام معنی درست ہیں یعنی تم کس کس مسلمان کو شہید سمجھتے ہو یا کس صفت سے شہادت کا حاصل ہونا جانتے ہو۔(مرقات) شہید بروزن فعیل صفت مشبہ یا بمعنی مفعول ہے جیسے شہیر بمعنی مشہور یا بمعنی فاعل جیسے خریب بمعنی خارب اور یہ لفظ یا شہادت بمعنی گواہی سے بنا ہے یا شہود بمعنی حاضری سے یا مشاہدہ بمعنی دیکھنے سے یعنی اپنے خون کے قطروں سے توحیدورسالت کی گواہی دینے والا یا جس کی بخشش و عزت کی قرآن و حدیث نے گواہی دی یا مرتے ہی رب تعالٰی کی بارگاہ میں یا جنت میں حاضر ہونے والا یا مرکر تمام جہان کا مشاہدہ کرنے والا یا جنت کی نعمتوں کو دیکھنے والا یا حضرات انبیاء کرام کی طرح دوسری امتوں پر گواہ،اوربھی اس کے بہت معنی ہیں۔(لمعات) ان کے مشاہدہ کے متعلق قرآن کریم فرماتاہے:"وَیَسْتَبْشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمْ یَلْحَقُوۡا بِہِمۡ"جو اب تک ان سے نہ ملے ان پر خوشیاں منارہے ہیں کہ عنقریب وہ لوگ مرکر یا شہید ہو کر ہمارے پاس آنے والے ہیں۔
۲؎ یعنی شہادت کے لیے ہم نے دو شرطیں سمجھی ہیں:ایک قتل ہونا اور دوسرے راہ خدا میں قتل ہونا یعنی جہاد میں کفار یا باغیوں وغیرہم کے ہاتھوں قتل ہونا۔
۳؎ کیونکہ ان دو شرطوں سے بہت سے حقیقی شہید بھی نکل جائیں گے جیسے چور ڈاکو کے ہاتھوں مقتول اور حکمی شہداء تو سارے ہی نکل جاویں گے۔
۴؎ یعنی وہ قتل تو نہ ہو اپنی موت مرے مگر مرے اﷲ کی راہ میں جیسے حاجی سفر حج میں یا طالب علم طلب علم کے زمانہ میں اور جو اﷲ کا کام کرتے کرتے مرے یہ سب شہید ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع