دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱؎ ضحك کے معنی ہیں ہنسنا،رب تعالٰی کے لیے یہ ناممکن ہے اس لیے بعض شارحین نے اس کے معنی کیے ہیں خوش ہونا،راضی ہونا،پسند فرمانا۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ ضحك کے معنی ہیں پانی بہانا لہذا اس کے معنے ہوئے رحمتیں بہاتا ہے،یہ معنے نہایت لذیذونفیس ہیں۔

۲؎ یعنی یہ قاتل و مقتول دونوں ایک ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جنت میں جاویں گے۔خیال رہے کہ دنیا کی تمام مسلمانوں کی ذاتی عداوتیں آخرت میں ختم ہوجاویں گی،یوں ہی دنیا کی جسمانی محبتیں بھی وہاں فنا ہوجائیں گی،ایمانی عداوت و رحمت باقی رہے گی،مسلمان باپ کافر بیٹے کو عذاب میں دیکھ کر خوش ہوگا اور اجنبی مسلمان دوسرے مسلمان کو عذاب میں دیکھ کر ملول ہوگا،اس کی سفارش و شفاعت کرکے اسے بخشوائے گا،یونہی وہ دو مسلمان جو دنیاوی معاملات میں ایک دوسرے کے دشمن تھے وہاں دوست ہو جائیں گے۔رب فرماتاہے:"وَنَزَعْنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنْ غِلٍّ اِخْوٰنًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ" اور فرماتاہے:"اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیۡنَ"۔

۳؎ کہ پہلا بھی شہیدوسعید مرا اور دوسرا بھی شہید و سعید،دیکھو حضرت امیر حمزہ کو جناب وحشی نے شہید کیا اور پھر بعد میں خود بھی سعیدومؤمن ہوکر فوت ہوئے،رضی اللہ عنہما۔

3808 -[22]

وَعَن سهل بن حنيف قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت سہل ابن حنیف سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو سچے دل سے اﷲ سے شہادت مانگے ۲؎ تو اﷲ اسے شہیدوں کے درجوں پر پہنچادے گا اگرچہ وہ اپنے بستر پر مرے ۳؎(مسلم)

۱؎ آپ صحابی بھی انصاری بھی،بدر اور تمام غزوات میں حاضر ہوئے،غزوہ احد میں مسلمانوں کے قدم اکھڑ جانے پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ڈٹے رہے،پھر حضرت علی کے ساتھ رہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو مدینہ منورہ کا گورنر مقرر فرمایا،پھر فارس پر۳۸ھ ؁میں کوفہ میں وفات پائی،امیر المومنین علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور وہاں ہی دفن کیا۔ (اشعۃ اللمعات)

۲؎ اسی طرح کہ دل سے شہادت کی آرزو کرے ،زبان سے دعا کرے اور بقدر طاقت جہاد کی تیاری کرے،موقعہ کی تاک میں رہے، صرف سچی دعا کو بھی بعض شارحین نے اسی میں داخل فرمایا ہے۔

۳؎ اسی طرح کہ یہ حکمی شہید ہوگا،جو جنت میں شہداء کے ساتھ رہے گا،رب تعالٰی کی عطا ہمارے وہم و گمان سے وراء ہے۔

3809 -[23]

وَعَن أنسٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ الْبَرَاءِ وَهِيَ أَمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ أَتَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُحَدِّثُنِي عنْ حَارِثَةَ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ فِي الْبُكَاءِ فَقَالَ: «يَا أَمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى» . رَوَاهُ البخاريُّ

روایت ہے حضرت انس سے کہ ربیع بنت براء ۱؎ جو حارثہ ابن سراقہ کی ماں ہیں ۲؎ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئیں بولیں یا رسول اﷲ آپ مجھے حارثہ کی کیوں خبرنہیں دیتے اور وہ بدر کے دن شہید کیے گئے تھے۳؎ کہ انہیں غائبانہ تیر لگا تھا اگر وہ جنت میں ہیں تو میں صبر کرلوں۴؎ اگر اس کے سوا ہو تو ان پر رونے میں کوشش کروں ۵؎ تو فرمایا اے ام حارثہ جنت بہت سی جنتیں ہیں ۶؎ اور تمہارے لخت جگر نے اعلیٰ درجہ کی فردوس حاصل کی ہے ۷؎ (بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن