دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۲؎ اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ ہر شخص جو میدان جہاد میں زخمی ہو وہ فی سبیل اﷲ زخمی نہیں۔فی سبیل اﷲ زخمی وہ ہے جس میں ریا نیتِ دنیا نہ ہو،یہ رب ہی جانتا ہے کہ کون راہِ خدا میں زخمی ہوا اور کون طلب دنیا میں۔دوسرے یہ کہ اﷲ خوب جانتا ہے کہ راہ خدا میں زخمی کون ہوتا ہے اسے پوری پوری جزا دے گا۔جیسے "وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ"۔اس صورت میں یہ جملہ اس کی اظہار شان کے لیے ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کفار سے جہاد میں یا باغیوں ڈاکوؤں کے ہاتھوں زخمی  ہونے والا،یوں ہی تبلیغ دین کے سلسلہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والا اس میں سب شامل ہیں سب کا یہ ہی اجر ہے جو یہاں مذکور ہے۔

۳؎ یعنی اس کے زخم ہرے ہوں گے ان سے تازہ خون جاری ہوگا مگر اس دن تکلیف نہ ہوگی۔یہ خون جاری ہونا اس کے مجاہد ہونے کی نشانی ہوگی جس سے تمام محشر والے اس کی عزت کریں گے۔بعض روایات میں بجائے یثعب کے یتفجر ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں،یعنی بہانا۔

۴؎ لہذا وہ خون نہ تو نجس ہوگا نہ بدبودار بلکہ اس کی مہک سے محشر والے تعجب کریں گے اور اس شخص کا احترام کریں گے،جب زخمی کا یہ حال ہے تو راہ خدا عزوجل میں شہید ہونے والے کا کیا پوچھنا،یہ خوشبو عبادت کے اثر سے ہوگی جیسے روزہ دار کے منہ کی خوشبو رب تعالٰی کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پیاری ہے۔

3803 -[17] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يُرْجَعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّى أَنْ يُرْجَعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ»

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایسا کوئی نہیں جو جنت میں داخل کیا جاوے ۱؎ پھر وہ دنیا میں لوٹنا پسندکرے اگرچہ دنیا کی ہر چیز اسے ملے ۲؎ سوائے شہید کے کہ وہ آرزو کرتا ہے کہ دنیا میں لوٹا یا جائے پھر قتل کیا جائے دس بار۳؎ کیونکہ وہ احترام دیکھتا ہے ۴؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہاں روحانی داخلہ مراد ہے جو بعض مؤمنوں کو مرتے ہی نصیب ہوجاتا ہے،جسمانی داخلہ بعد قیامت ہوگا جب دنیا ختم ہوچکی ہوگی لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔خیال رہے کہ عام مؤمنین کی قبروں میں جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے جس سے وہاں کی ہوائیں،خوشبوئیں وغیرہ آتی رہتی ہیں شہداء وغیرہ کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں جنت میں داخل ہوجاتی ہیں بعد قیامت اس جسم کے ساتھ جنت میں داخلہ ہوگا۔(ان شاءاﷲ تعالیٰ)

۲؎ کیونکہ دنیا آفات کی جگہ ہے،اگرچہ دنیا میں کسی کو بہت زیادہ آرام ملے مگر وہ سب آرام اس آرام کے مقابل تکالیف ہیں،جیل کا اے کلاس بھی گھر کی آزادی گھر کے آرام کے مقابل ہیچ ہے۔

۳؎ دس بار سے مراد کئی بار ہے،یعنی شہید تمنا کرے گا کہ پھر مجھے دنیا میں بھیج کر شہادت کا موقعہ دیا جائے،جو مزہ راہ ِ خدا عزوجل میں سر کٹانے میں آیا وہ کسی چیز میں نہ آیا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن