30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ ہذیل کفار کا بڑا قبیلہ تھا اور بنی لحیان اس کا فخذ جیسے پٹھان بڑا قبیلہ ہے،پھر یوسف زئی،کمال زئی ان کے چھوٹے خاندان،یہ جہاد بنی لحیان پر تھا۔
۲؎ یعنی گھر کے سارے آدمی لشکر میں نہ جائیں،باپ بیٹے،بھائی،بھائی،چچا بھتیجے میں سے ایک شخص تو جہاد میں جائے دوسرا شخص گھر میں رہ کر اسے سنبھالے،نفس ثواب مشترک ہوگا۔معلوم ہوا کہ مجاہد کا خلیفہ مجاہد کے ثواب میں شریک ہوتا ہے۔
|
3801 -[15] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تقوم السَّاعَة». رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ یہ دین قائم رہے گا اس پر مسلمانوں کی ایک جماعت جہاد کرتی رہے گی ۲؎ حتی کہ قیامت قائم ہوجاؤے ۳؎ (مسلم)۴؎ |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کی کنیت ابوعبداﷲ ہے،عامری ہیں،حضرت سعد ابن وقاص کے بھانجے ہیں،آپ کی والدہ خالدہ بنت ابی وقاص ہیں،کوفہ میں رہے،وہاں ہی ۷۴ھ میں وفات پائی۔
۲؎ یعنی روئے زمین میں کہیں نہ کہیں جہاد ہوتا ہی رہے گا اگرچہ کبھی کسی خاص جگہ نہ ہو اور اس کے جہاد کی وجہ سے دین قائم رہے گا۔مرقات نے فرمایا کہ شام اور روم کے مسلمان اکثر جہاد کرتے رہیں گے۔ الحمدﷲ! حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی اب تک ظاہر ہورہی ہے کہ کہیں نہ کہیں جہاد ہوتا ہی رہتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد دائمی عبادت ہے کبھی منسوخ نہ ہوگا۔اس سے مرزائی عبرت پکڑیں جو جہاد کو منسوخ مانتے ہیں نعوذباﷲ! جو کوئی جہاد کو منسوخ مانے وہ ایسا ہی مرتد و کافر ہے جیساکہ نماز روزہ کو منسوخ ماننے والا۔
۳؎ یا تو اس سے قرب قیامت مراد ہے یا خود قیامت مراد،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں کہ قیامت سے چالیس سال پہلے دنیائے اسلام و قرآن ختم ہوجائے گا،قیامت ان لوگوں پر قائم ہوگی جن میں کوئی اﷲ اﷲ کہنے والا نہ ہوگا پھر جہاد کیسا۔
۴؎ اسے ابوداؤد نے بھی روایت فرمایا۔ایک حدیث میں ہے کہ میری امت میں ایک ٹولہ ہمیشہ غالب رہے گا،اس کے مخالفین اسے کچھ نقصان نہ پہنچاسکیں گے۔مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث علماء کو شامل ہےکہ وہ حضرات قلم و زبان سے جہاد کرتے رہتے ہیں۔
|
3802 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُكَلَّمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكَلَّمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ والريحُ ريحُ المسكِ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں زخمی کیا جاتا اﷲ کی راہ میں کوئی ۱؎ اﷲ ہی جانے کہ کون اﷲ کی راہ میں زخمی کیاجاتا ہے ۲؎ مگر وہ قیامت کے دن اسی طرح آئے گا کہ اس کا زخم خون بہاتا ہوگا۳؎ رنگ خون کا رنگ ہوگا اور خوشبو مشک کی سی ہوگی ۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ خواہ اس زخم سے موت ہوجائے یا نہ ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع