دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۲؎ اس طرح کہ غازی جہاد کو جاتے وقت اسے اپنے گھر کا نگران و منتظم بنایا گیا ہویا وہ تو اچانک میدان جہاد میں چلا گیا ہو،اس کے بال بچوں نے اسے اپنا سر پرست مان لیا ہو،یہ کلمہ دونوں معنی میں شامل ہے۔گھر والوں سے مراد بیوی،بچے،لونڈی اور بوڑھے ماں باپ وغیرہ سب ہی شامل ہیں۔

۳؎ یہاں خیانت سے عزت،عصمت،مال،زمین وغیرہ تمام کی خیانتیں شامل ہیں۔ان میں سے کسی قسم کی خیانت کرے اس کی سزا وہی ہے جو آئندہ مذکور ہے۔

۴؎ اگر چاہے گا تو اس خائن کی تمام عمر کی ساری عبادتیں چھین لے،روزے،نمازیں،حج،زکوۃ وغیرہ گویا یہ خیانت نیکیاں چھن جانے کا سبب ہے۔

۵؎ یعنی خود خیال کرلو کہ مجاہد ایسے خائن کی کوئی نیکی چھوڑے گا ہرگز نہیں۔نیکی چھین لینے کے یہ معنے ہیں کہ اس خائن کو نیکی کا ثواب نہ ملے بلکہ جو اسے ثواب و درجہ ملتا وہ اس غازی کو دے دیا جائے یا یہ مطلب ہے کہ سوچو کہ رب تعالٰی کے ہاں مجاہد کی کیا عزت و حرمت ہے۔

3799 -[13]

وَعَن أبي مَسْعُود الْأنْصَارِيّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فَقَالَ: هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعمِائة نَاقَة كلهَا مخطومة» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے فرماتے ہیں ایک شخص جہاد والی اونٹنی لایا ۱؎ عرض کیا یہ اﷲ کی راہ میں ہے ۲؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کے عوض تجھے قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ملیں گی جو۳؎سب کی سب مہار والی ہوں گی۔ (مسلم)

۱؎ کبھی خطام بمعنی زمام آتا ہے یعنی مہار،لمبا رسہ،نکیل جس کا ایک کنارہ اونٹ کی ناک میں ہوتا ہے دوسرا مالک کے ہاتھ میں، کبھی خطام صرف نتھ کو کہتے ہیں اور زمام پوری مہارو نکیل کو،نتھ وہ رسی پتلی سی ہے جو ناک میں ڈال کر پورے سر سے گھما کر باندھ دی جائے،پھر اس رسی میں نکیل باندھی جاوے جیسے عمومًا گاؤں والے بیل بھینس کو باندھتے ہیں۔

۲؎ فقراء کے لیے یا مجاہدین غازیوں کے لیے،دوسرے معنی زیادہ موزوں ہیں اس لیے مؤلف یہ حدیث کتاب الجہاد میں لائے۔

۳؎ حق یہ ہے کہ حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،اﷲ تعالٰی بطور اعزاز اہل جنت کو سواری کے لیے گھوڑے اونٹنیاں عطا فرمائے گا جن کی رفتار ہوا سے زیادہ ہوگی جیسے قربانی کرنے والوں کو صراط طے کرنے کے لیے سواری دی جائے گی۔بعض شارحین نے کہا کہ اس سے مراد ہے سات سو اونٹنیاں خیرات کرنے کا ثواب دے گا مگر یہ درست نہیں ورنہ پھر مہار والی ہونے کے کیا معنی،کیا ثواب کے بھی مہار ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں خرچ کرنے والوں کو زیادہ ثواب ملتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ تجھے اونٹ کے عوض سات سو اونٹ اور مہار کے عوض سات سو مہاریں عطا ہوں گی تیری کوئی خیرات ضائع نہ جاوے گی۔

3800 -[14]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لِحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَالَ: «لينبعثْ مِنْ كلِّ رجلينِ أحدُهما والأجرُ بَينهمَا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو سعید سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لشکر ہزیل کے قبیلہ بنی لحیان کی طرف بھیجا ۱؎ تو فرمایا ہر دو شخصوں میں سے ایک شخص چلا جائے ثواب ان دونوں کو ہوگا۲؎ (مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن