30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حصر اضافی ہے یعنی دنیا دار فتنوں میں مبتلا آخرت سے غافل آدمی بھلائی میں نہیں بلکہ بھلائی میں صرف یہ ہیں لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں اس حدیث کی بنا پر بعض زاہدین نے فرمایا کہ گوشہ نشینی افضل ہے،جلوت سے خلوت بہتر مگر حق یہ ہے کہ خلوت سے جلوت افضل،حضرات انبیاء کرام لوگوں میں رہے،تبلیغ کرتے رہے،نیز جس رہنے سے جمعہ عیدین نماز باجماعت نصیب ہوتی ہے،جنگل میں یہ نعمتیں کہاں،شہر میں علم ہے،ذکر کے حلقے ہیں،اچھوں کی صحبتیں ہیں۔حدیث فتنوں کے ظہور کے زمانہ کے متعلق ہے جب شہروں میں امن نہ رہے یا اس کمزور آدمی کے لیے ہے جو بستی اور اختلاط کی تکالیف پر صبر نہ کرسکے(مرقات)
|
3797 -[11] وَعَن زيد بن خالدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فقد غزا» |
روایت ہے حضرت زید ابن خالد سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو سامان دیا تو اس نے جہاد کیا ۲؎ اور جوکسی غازی کے گھر بار میں اس کا نائب بن کر رہا اس نے جہاد کیا ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،عبدالملک کے زمانہ میں کوفہ میں وفات پائی، ۷۸ھ میں بعض نسخوں میں یزید ابن خالد ہے۔
۲؎ یعنی غازی کو سامان سفر سامان جنگ یا روٹی،کپڑا،سواری دینے والے کو بھی جہاد کرنے کا ثواب ملتا ہے،یہاں جہاد سے حکمی جہاد مراد ہے یعنی ثواب۔
۳؎ یعنی جو مجاہد کے پیچھے اس کے بال بچوں کی خدمت اس کے گھر بار کی دیکھ بھال کرے وہ بھی ثواب جہاد میں شریک ہوگیا کیونکہ اس کی اس خدمت سے غازی کا دل مطمئن ہوگا جس سے وہ جہاد اچھی طرح کرسکے گا تو گویا یہ شخص غازی کے اطمینانِ دل کا ذریعہ بنا۔
|
3798 -[12] وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ فَيَخُونُهُ فِيهِمْ إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فيأخذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ فَمَا ظَنُّكُمْ؟» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے غازیوں کی بیویوں کا احترام بیٹھ رہنے والوں کے ذمہ ایسا ہے جیسے اپنی ماؤں کا احترام ۱؎ اور بیٹھ رہنے والوں میں سے کوئی شخص نہیں جو مجاہدین میں سے کسی کے گھر والوں میں خلیفہ بنے ۲؎ پھر ان میں اس غازی کی خیانت کرے۳؎ مگر یہ خائن غازی کے سامنے قیامت کے دن کھڑا ہوگا پھر غازی اس کے اعمال میں سے جو چاہے گا لے گا۴؎ اب تمہارا کیا خیال ہے ۵؎(مسلم) |
۱؎ حرمت سے مراد یا حرام ہونا ہے حلت کا مقابل یا اس سے مراد عزت و حرمت ہے جیسے کہا جاتا ہے بیت اﷲ الحرام یعنی اگرچہ ہر غیر منکوحہ غیر مملوکہ عورت سے صحبت کرنا زنا ہے جس کی سزا رجم ہے مگر اپنی ماں سے صحبت کرنا سخت تر گناہ اور بے حیائی ہے ایسے ہی اگرچہ اور دوسری عورتیں بھی اس مسلمان پر حرام ہیں مگر مجاہد غازی کی بیوی زیادہ حرام،اگر کوئی مسلمان غازی کی بیوی سے زنا کرے بلکہ اسے بدنظری سے ہی دیکھے تو سخت عذاب کا،وبال کا،قہر الٰہی کا مستحق ہوگا کہ اس نے ایسے مقبول خدا کی خیانت کی جو راہ خدا میں جان کی بازی لگا رہا ہے یا جیسے ماں کی عزت و حرمت اولاد پر اشد ضروری ہے ایسے ہی مجاہد غازی کی بیوی کی عزت و احترام ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اس کی حفاظت کریں،ان کی تکالیف دور کرنے کی کوشش کریں ان کا کام کاج کریں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع