30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ سبحان اﷲ! کیا کرم نوازی ہے کہ مرابط جو جو نیکیاں زندگی میں کرتا تھا ان سب کا ثواب قیامت تک اسے پہنچتا رہتا ہے اس کا ہر عمل جاری بن جاتا ہے۔
۳؎ یعنی شہید کی طرح اسے بھی قبر میں ہمیشہ جنتی رزق ملتا رہے گا،رب تعالٰی فرماتاہے:"یُرْزَقُوۡنَ فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔
۴؎ امن معروف ہے یا مجہول اور فتان یا نون کے فتحہ سے ہے،فتنہ کا مبالغہ یا ف کے ضمہ سے فاتن بمعنی فتنہ گر کی جمع یعنی اﷲ کی راہ میں مرابط بڑے فتنہ سے یا فتنہ گری سے محفوظ رہے گا یا محفوظ رکھا جائے گا،بڑے فتنہ سے مراد حساب قبر کا فتنہ و آزمائش ہے اور فتنہ گری یعنی آزمائش کرنے والوں سے مراد عذاب کے فرشتے،منکر نکیر یا دجال اور شیطان ہیں۔مرابط حساب قبر عذاب قبر سے بھی محفوظ ہے،دوزخ کی آگ اور وہاں کے ملائکہ کے عذاب سے امن میں رہے گا،نیز شیطان اور اگر اس کی زندگی میں دجال نکلے تو اس کے شر سے محفوظ رہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ مجاہد اور مرابط سے حساب قبر بھی نہیں ہوگا اور تنگی قبر و حساب قبر سے محفوظ رہے گا،اس فقہی فرمان کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔
|
3794 -[8] وَعَن أبي عَبْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ الله فَتَمَسهُ النَّار» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابو عبس ۱؎ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی بندے کے پاؤں اﷲ کی راہ میں گرد آلود ہوں ۲؎ پھر آگ چھوئے ۳؎(بخاری) |
۱؎ آپ انصاری صحابی ہیں،زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام عبدالعزیٰ تھا،اسلام میں آپ کا نام عبدالرحمن ابن جبیر ہوا مگر آپ کی کنیت نام پر غالب رہی،بدر اور تمام غزوات میں شامل ہوئے،ستر سال کی عمر پائی ۳۴ھ میں وفات پائی،مدینہ منورہ جنت البقیع میں دفن ہوئے۔(اشعہ،مرقات)
۲؎ یعنی جو شخص رضائے الٰہی کے لیے کوئی راستہ طے کرے اور راستہ طے کرنے میں اس کے قدموں پر گرد و غبار پڑے۔خیال رہے کہ اﷲ کی راہ حج،طلب علم،جنازہ کی حاضری،بیماری ، بیمار پرسی، جماعت نماز میں حاضری سب ہی کو شامل ہے مگر مطلقًا اﷲ کی راہ سے مراد سفر جہاد ہوتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنا اونٹ فی سبیل اﷲ وقف کیا ہے وہ کہاں استعمال کیا جائے گا،فرمایا حج میں،قرآن کریم میں جو مصرف زکوۃ میں فی سبیل اﷲ واقعہ ہے امام ابو یوسف کے ہاں اس سے مجبور غازی مراد ہے،امام محمد کے ہاں مجبور حاجی۔(مرقات)
۳؎ یعنی ایسے شخص کو دوزخ کی آگ جلانہیں سکتی جب راہِ خدا کے غبار کا یہ عالم ہے تو غور کرو کہ خود جہاد کا فائدہ کیا ہوگا خوفِ خدا سے آنکھ کے آنسو،راہ خدا کا غبار،دوزخ کی آگ بجھانے میں اکسیر ہے۔
|
3795 -[9] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجْتَمِعُ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أبدا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کافر اور اس کا قاتل کبھی آگ میں جمع نہ ہوں گے ۱؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع