30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ قانت بنا ہے قنوت سے،احادیث میں قنوت چند معنے میں استعمال ہوا ہے اطاعت،عاجزی،نماز،دعا،عبادت، قیام۔نماز کا قیام خاموشی۔یہاں قانت سے مراد عابد ہے یا قائم یا نمازی یعنی مجاہد غازی اگرچہ آرام کرے سوئے یا کوئی جائز کام کرے ثواب عبادت ہی پائے گا کیونکہ سفر جہاد ہی تو ہے جیسے روزہ ہر وقت منہ میں رہتا ہے اس لیے رزہ دار ہوتے ہوئے بھی عابد ہے،ایسے ہی اس سفر میں بہرحال غازی رہتا ہے اس لیے کھاتے پیتے سوتے جاگتے عابد ہوتا ہے۔غازی کو بھی چاہیے کہ اس سفر میں ناجائز حرکت نہ کرے اﷲ رسول سے شرم کرے،حضرات صحابہ رضی اللہ عنھم کی بحالت جنگ حالت یہ ہوتی تھی کہ منہ میں قرآن ہاتھ میں تلوار۔
۲؎ خیال رہے کہ یہ تشبیہ ثواب میں ہے نہ کہ عمل میں لہذا حدیث پر یہ اعتراض تھا کہ ہمیشہ روزے رکھنا اور تمام رات نماز قرآن پڑھنا بالکل نہ سونا تو ممنوع ہے کہ وہاں ممانعت اسی لیے تو ہے کہ انسان تھک کر بیمار ہوجائے گا پھر فرائض وواجبات سے بھی جاتا رہے گا،اگر کوئی شخص ہمیشہ کے روزے ساری رات نماز سے تھکن محسوس نہ کرے تو اس کے لیے ممانعت بھی نہیں۔اس لیے اس افصح الفصحاء صلی اللہ علی وسلم نے نہ تھکنے کے قید لگادی کہ فرمایا لا یفتر۔
۳؎ یعنی یہ ثواب صرف میدان جنگ میں رہنے کے اوقات سے خاص نہیں بلکہ جاتے آتے سفر میں بھی ملتا ہے گھر واپس پہنچنے تک یہ ثواب ہے جہاد کرنے کا ثواب علیٰحدہ ۔
|
3789 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي أَنْ أَرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ أَوْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اﷲ ضامن ہوچکا اس کا جو اس کی راہ میں نکلا ۱؎ اسے نہ نکالے مگر مجھ پر ایمان اورمیرے رسول کی تصدیق۲؎ نہ کرادے وہ ثواب یا غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں جو وہ حاصل کرے یا اسے جنت میں داخلہ دے دوں ۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ غالب یہ ہے کہ سبیل سے مراد راہ جہاد سے اسی لیے مؤلف یہ حدیث جہاد کے بیان میں لائے۔ہوسکتا ہے کہ اس جہاد سے طلب علم،عمرہ و حج کے تمام سفر مراد ہوں مگر پہلی توجیہ زیادہ صحیح ہے کہ اگلا مضمون اس کی تائید کررہا ہے اور رب کی یہ ضمانت کرم کی ضمانت ہے۔
۲؎ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تصدیق تمام رسولوں کی تصدیق ہے اس لیے اس جملے میں ارشاد ہوا جس کے پاس سو ہیں اس کے پاس ساری اکائیاں دہائیاں ہیں۔
۳؎ او ادخلہ کاعطف ارجعہ پر ہے یعنی اگر غازی جیت کر لوٹا تو غنیمت و ثواب سب کچھ لے آیا،اگر شکست کھا گیا تو ثواب کے ساتھ لوٹا،اگر شہید ہوگیا تو جنت میں گیا ہر طرح نفع میں ہے۔مثل مشہور ہے کہ لٹ گئے تو روزہ،لوٹ لائے تو عید،مار آئے تو غازی،مر گئے تو شہید۔
|
3790 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أنْ أُقتَلَ فِي سَبِيل الله ثمَّ أُحْيى ثمَّ أُقتَلُ ثمَّ أُحْيى ثمَّ أُقتَلُ ثمَّ أُحْيى ثمَّ أقتل» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر یہ مجبوری نہ ہوتی کہ مسلمان لوگوں کے دل خوش نہیں ہوتے مجھ سے پیچھے رہ جانے سے ۱؎ اور ہم اتنی سواریاں پاتے نہیں جو ان سب کو دیں ۲؎ تو ہم کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے ۳؎ اور اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں پسند کرتا ہوں کہ اﷲ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھرزندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیاجاؤں ۴؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع