30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گواہی مردود قرار دی اور ہمیشہ کے لیے مردود قرار دی توبہ کرے یا نہ کرے۔(مرقات و کتب فقہ)چونکہ اس جملہ کی تائید قرآن کریم سے ہورہی ہے لہذا حدیث کا یہ جزءقوی ہے۔
۳؎ بھائی سے مراد وہ ہے جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے اسلامی بھائی چارہ مراد ہے یعنی کینہ پرور اور دشمن کی گواہی دشمن کے خلاف قبول نہیں اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ بوجہ دشمنی اسے نقصان پہنچانے کے لیے اس کے خلاف جھوٹی گواہی دے گا اس لیے احتیاطًا یہ لازم کردیا گیا۔
۴؎ یعنی جو غلام اپنے کو مولیٰ کے سوائے کسی اور کا آزاد کردہ غلام بتاکر اپنی ولاء اس سے ثابت کرے یوں ہی جو شخص اپنے کو دوسرے خاندان سے منسوب کرے ان کی گواہی قبول نہیں۔آج کل لوگوں کو بناوٹی سید بننے کا بہت شوق ہے ایسے مصنوعی سیدوں کی گواہی مردود ہے یہ فرمان عالی بہت جامع ہے۔عربی میں قانع کہتے ہے سائل کو اور مقنع کہتے ہیں صابر کو جو تھوڑے کھانے پر قناعت کرے،یہاں وہ شخص مراد ہے جو کسی کے گھر رہ کر اس کی عطاء پرگزارہ کررہا ہو،چونکہ اس گھر والے کے حق میں گواہی کا نفع خود اس کو بھی پہنچے گا کہ اس کو جو مال ملے گا اس مال سے اس کو کھانا ملے گا اس لیے گواہی قبول نہیں جو گواہی خود گواہ کو نفع بخش ہو وہ قبول نہیں جیسے باپ کی گواہی اولاد کے حق میں،زوجین کی گواہی ایک دوسرے کے حق میں کہ کوئی قبول نہیں یوں قرض خواہ کی گواہی اپنے مقروض کے حق میں قبول نہیں۔
۵؎ اس میں خادم تابع لے پالک سب داخل ہیں جوکسی کی روٹی پرگزارہ کرتا ہو اس کی گواہی اس گھر والوں کے حق میں قبول نہیں کہ یہ شخص اپنی پرورش کے لیے اس کے حق میں گواہی دے گا۔
۶؎ اگرچہ یہ حدیث غریب ہے مگر اس کے بعض اجزاء کی تائید قرآن مجید سے ہورہی ہے اور بعض اجزاء کی تائید دیگر احادیث سے،نیز آئمہ دین کا اسی پر عمل ہے ان وجوہ سے یہ قوی ہوگئی۔
|
3782 -[25] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا زَانٍ وَلَا زَانِيَةٍ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ» . وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيَتْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہ تو خیانتی مرد کی گواہی جائز ہے نہ خیانتی عورت کی ۱؎ اور نہ زانی مردکی نہ زانیہ عورت کی ۲؎ نہ کینے والے کی اپنے بھائی کے خلاف۳؎ اور رد فرمائی اس کی گواہی جوکسی کے گھر سے گزارہ کرے اسی گھروالوں کے لیے۴؎ (ابوداؤد) |
۱؎ اس کی شرح ابھی گزرگئی کہ حق یہ ہے کہ اس سے مراد ہر فاسق اور فاسِقہ ہے۔
۲؎ کیونکہ زانی فاسق ہے اور فاسق کی گواہی قبول نہیں توبہ کے بعد قبول ہے کہ اب فاسق نہیں رہا۔
۳؎ یعنی دشمن کی گواہی دشمن کے خلاف قبول نہیں خواہ وہ دشمن سگا بھائی ہو یا دینی بھائی نسبًا اجنبی لفظ اخیہ دونوں کو شامل
ہے۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں دنیاوی عداوتیں مراد ہیں،دینی اختلاف کی صورت میں مسلمان کی گواہی کافر کے خلاف قبول ہے یوں ہی اگر اسلام کی مختلف جماعتوں کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف گواہی دیں۔
۴؎ اس کی شرح اور وجہ ابھی اوپر مذکور ہوئی۔
|
3783 -[26] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جنگلی(دیہاتی) آدمی کی گواہی بستی والے کے خلاف جائز نہیں ۱؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع