30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3780 -[23] وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ إِلَّا أَنَّ ابْنَ مَاجَهْ لَمْ يَذْكُرِ الْقِرَاءَةَ |
اور اسے احمدوترمذی نے حضرت ایمن ابن خریم سے ۱؎ روایت کیا مگر ابن ماجہ نے تلاوت کا ذکر نہ کیا ۲؎ |
۱؎ یعنی ابوداؤد وغیرہ نے تو والد سے روایت کی اور ترمذی نے بیٹے یعنی ایمن سے روایت کی،ایمن حضرت خریم کے بیٹے ہیں،ایمن کی صحابیت ثابت نہیں اس لیے ان کی روایت مرسل ہوگی۔
۲؎ یعنی ابن ماجہ نے یہ بیان نہ کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بعد میں آیت کریمہ"فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ" تلاوت فرمائی۔
|
3781 -[24] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا مَجْلُودٍ حَدًّا وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ وَلَا ظَنِينٍ فِي وَلَاءٍ وَلَا قَرَابَةٍ وَلَا الْقَانِعِ مَعَ أَهْلِ الْبَيْتِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غريبٌ ويزيدُ بن زيادٍ الدِّمَشْقِي الرَّاوِي مُنكر الحَدِيث |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے والی کی ۱؎ اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی۲؎ اور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف۳؎ اور نہ ولاءونسب میں تہمت والے کی۴؎ اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی ۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور یزید ابن زیاد دمشقی راوی منکر الحدیث ہے ۶؎ |
۱؎ خیانت ضد ہے امانت کی،کسی کا مال ناحق دبا لینا،خیانت کی بہت صورتیں ہیں یہاں یا تو خیانت سے یہ مال مار لینا مراد ہے یا اس سے ہرفسق و بدکاری مراد۔گناہ کبیرہ کرنا یا گناہ صغیرہ پر اڑ جانا اسے کرتے رہنا فسق ہے اور ہر فسق خیانت ہے کہ اس میں حق اللہ اور حق شرع کا مارنا ہے اس لیے ہر فاسق خائن ہے،مرقات نے یہاں خائن کے یہ ہی معنی کیے یعنی فاسق،اشعۃ اللمعات نے بھی اسی معنی کو ترجیح دی۔مطلب یہ ہے کہ فاسق معلن کی گواہی قاضی کے ہاں قبول نہیں قرآن کریم فرماتاہے:"وَ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"اپنے میں سے دو عادلوں و پرہیزگاروں کو گواہ بناؤ اس لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ شرابی،زانی،چور،داڑھی منڈے وغیرہم فسّاق کی گواہی قبول نہیں اس حکم کا ماخذ یہ ہی حدیث اور یہ ہی آیت ہے۔
۲؎ خیال رہے کہ کوڑوں کی سزا کنوارے زانی کو بھی دی جاتی ہے(سو کوڑے)اور شرابی کو بھی(اسی۸۰ کوڑے) اور پارسا عورت کو زنا کی تہمت لگانے والے کو بھی(اسی۸۰ کوڑے)مگر یہاں مراد یہ تیسرا شخص ہے تہمت کی سزا والا کیونکہ مردود الشہادت صرف یہ ہی شخص ہے نہ کہ پہلے دو،اس پر ساری امت کا اجماع بھی ہے قرآن کریم کی تصریح بھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ یَرْمُوۡنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاۡتُوۡا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ فَاجْلِدُوۡہُمْ ثَمٰنِیۡنَ جَلْدَۃً وَّ لَا تَقْبَلُوۡا لَہُمْ شَہٰدَۃً اَبَدًا وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا"مگر ہمارے امام اعظم کے ہاں قاذف تہمت لگانے والے کی گواہی توبہ کے بعد بھی قبول نہیں ہمیشہ مردود الشہادۃ رہے گا،مگر امام شافعی کے ہاں بعد توبہ اس کی گواہی قبول ہوگی،وہ فرماتے ہیں الا الذین تابوا کا تعلق لا تقبلوا سے ہے اور ہمارے ہاں اس کا تعلق فاسقون سے ہے یعنی یہ قاذفین فاسق ہیں سواء توبہ کرنے والوں کے،نیز امام شافعی کے ہاں قاذف تہمت لگاتے ہی مردود الشہادت ہے مگر ہمارے ہاں کوڑے لگنے کے بعد یعنی ہمارے ہاں گواہی رد ہونا تہمت کی سزا کا تتمہ ہے،یہ حدیث ان دونوں مسئلوں میں امام اعظم کی دلیل ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے مَجلود یعنی کوڑے لگائے ہوئے کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع