30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اک طرف روضہ کی جالی اک سمت منبر کی بہار بیچ میں جنت کی پیاری پیاری کیاری واہ واہ
۲؎ یعنی دوسری جگہ جھوٹی قسم کھانے سے ہمارے منبر کے سامنے ایسی قسم کھانا زیادہ خطرناک ہے کہ اس میں جھوٹ بھی ہے اور منبر رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اہانت بھی۔معلوم ہوا کہ اچھی جگہ اچھے وقت میں جیسے نیکی کا ثواب زیادہ ہوتا ہے ایسے ہی گناہ کا عذاب بھی زیادہ ،دیکھو اورمہینوں میں روزہ توڑنے سے صرف قضا واجب ہوتی ہے مگر ماہ رمضان میں روزہ توڑنے پر اکسٹھ روزے واجب ہیں ایک قضا کا ساٹھ کفارہ کے یہ کفارہ کیا ہے ماہ رمضان کی بے حرمتی۔
|
3779 -[22] وَعَن خُريمِ بن فاتكٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ: «عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قَرَأَ: (فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بهِ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت خریم ابن فاتک ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز فجر پڑھی،پھر جب فارغ ہوئے تو سیدھے کھڑے ہوئے پھر تین بار فرمایا کہ جھوٹی گواہی اﷲ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے برابر کی گئی ۲؎ پھر یہ آیت تلاوت کی کہ بچو گندگی یعنی بتوں سے۳؎ اور بچو جھوٹی بات سے۴؎ اﷲ کی طرف جھکتے ہوئے اس کے ساتھ شریک نہ کرتے ہوئے ۵؎ (ابو داؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ خریم خ کے ضمہ سے ر کے فتحہ سے،آپ خریم ابن اخرم ابن شداد ابن عمرو ابن فاتک ہیں،اسدی ہیں، صحابی ہیں،حدیبیہ میں حاضر ہوئے،بدر میں شرکت ثابت نہیں۔
۲؎ زور بنا ہے زور بالفتح سے جس کے معنی ہیں مائل ہونا،ٹیڑھا ہونا۔اصطلاح میں جھوٹ کو بھی زور کہتے ہیں اور ملمع سازی کو بھی کیونکہ جھوٹا آدمی جھوٹ کی وجہ سے راہِ حق سے ہٹ جاتا ہے ملمع سازی عملی جھوٹ ہے کہ پیتل کو ملمع کرکے سونا دکھایا جاتا ہے یعنی قرآن کریم میں جھوٹی گواہی کو شرک کے ساتھ بیان فرمایا اور اسے شرک کے برابر قرار دیا کیونکہ شرک بھی جھوٹ کی ہی تو قسم ہے۔مشرک کہتا ہے رب دو ہیں یہ قول جھوٹ ہے سمجھتا ہے کہ بت لائق عبادت ہیں یہ اعتقادی جھوٹ ہے،نیز مشرک رب تعالٰی کے خلاف جھوٹ بول کر اس کا حق مارتا ہے اوریہ جھوٹا بندے کے خلا ف جھوٹ بول کر اس کا حق مارتاہے لہذا جھوٹ کو شرک سے بہت تناسب ہے۔
۳؎ من الاوثان میں من بیانیہ ہے اور اوثان رجسٌ کا بیان جیسے ظاہری پلیدی جسم یا کپڑے کو گندا کرتی ہے ایسے ہی بت پرستی دل کو گندا کرتی ہے۔
۴؎ مطلب یہ ہے کہ جیسے تم ظاہر گندگیوں سے گھن کرتے ہو ویسے ہی باطن گندگیوں سے گھن کرو،باطنی گندگی بت پرستی اور جھوٹی بات،جسم سے زیادہ دل اور روح کی فکر کرو۔
۵؎ حنفاء جمع ہے حنیف کی حنیف کے معنی ہیں کسی کی طرف جھکنا،مائل ہونا اور جنیف جیم سےکسی سے الگ ہونا،اس سے مائل ہونا ہے،حنیف وہ ہے جو باطل سے ہٹا ہو حق کی طرف مائل ہو اسی لیے حضرت ابراہیم السلام کو قرآن کریم نے حنیف فرمایا،ان کے صدقہ سے ہر مسلمان حنیف ہے کہ کفر سے ہٹا ہوا ہے ۔
|
3780 -[23] وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ إِلَّا أَنَّ ابْنَ مَاجَهْ لَمْ يَذْكُرِ الْقِرَاءَةَ |
اور اسے احمدوترمذی نے حضرت ایمن ابن خریم سے ۱؎ روایت کیا مگر ابن ماجہ نے تلاوت کا ذکر نہ کیا ۲؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع