30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اُنیس الف کے ضمہ نون کے فتحہ سے،یہ عبداﷲ صحابی جہنی انصاری ہیں،غزوہ احد وغیرہ میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ میں ۵۴ھ میں وفات پائی۔
۲؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ ایسے مقامات پر شرک سے مراد مطلقًا کفر ہوتا ہے کیونکہ ہر کفر بڑے سے بڑا گناہ ہے الخ،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیۡمٌ"کفر بڑا ظلم ہے اور فرماتا ہے:"وَ لَا تُنۡکِحُوا الْمُشْرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوۡا"کفار مردوں سے مسلمان عورتوں کا نکاح نہ کرو تاوقتیکہ وہ مسلمان نہ ہوجائیں۔فقیر نے بھی اس کی تحقیق اپنی تفسیر میں کی ہے کہ جہاں شرک کا مقابلہ ایمان سے ہوگا وہاں اور جہاں شرک مطلق ہوگا وہاں اس سے مراد ہر کفر ہوگا،کفر کے معنی ہیں کسی اسلامی عقیدے کا انکار کرنا جیسے نبی کی نبوت،قرآن کی حقانیت،قیامت،نماز،زکوۃ وغیرہ کا انکار اور شرک کے معنی ہیں کسی کو اﷲ تعالٰی کے برابر ماننا یا اﷲ تعالٰی کی شان گھٹا کر اس کو کسی بندے کے برابر سمجھنا،برابری کے عقیدے کے بغیر شرک ناممکن ہے،دیکھو ہماری کتاب علم القرآن۔رب تعالٰی فرماتاہے:"ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعْدِلُوۡنَ"اور فرماتاہے:"اِذْ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"۔ بہرحال شرک میں شرط ہے کسی کو رب کے برابر سمجھنا،یہ خوب خیال میں رہے۔
۳؎ ماں باپ اگرچہ کافر ہوں ان کے حقوق ادا کرنا شرعًا ضروری ہیں۔عقوق کے معنی ہیں ادائے حق کی کوتاہی کرنا یہ سخت گناہ ہے۔
۴؎ قسم تین طرح کی ہے:قسم لغو،قسم منعقدہ،قسم غموس۔بے خبری میں جھوٹی قسم جو منہ سے نکل جاوے وہ لغو ہے،اس میں نہ گناہ ہے نہ کفارہ،آئندہ کے متعلق قسم اگر یہ توڑ دی جائے تو کفارہ واجب ہے،گزشتہ واقعہ پر دیدہ و دانستہ جھوٹی قسم اس میں کفارہ نہیں گناہ ہے۔غموس بنا ہے غمس سے بمعنی ڈبونا،چونکہ یہ قسم انسان کو گناہوں میں ڈبو دیتی ہے اس لیے یمین غموس کہتے ہیں۔
۵؎ قسم صبرکے معنی پہلے عرض کیے جاچکے ہیں کہ ایسی قسم جو مقابل کو انکار سے روک دے جیسے مسجد نبوی میں منبر رسول کے پاس قسم یا بعد نماز عصر قرآن مجید سر پر رکھ کر قسم وغیرہ۔
۶؎ یعنی یہ قسم اس کے دل میں ایسا میل پیدا کردیتی ہے جیسے شیشہ یا شفاف تلوار میں گردوغبار کے دھبے اور یہ داغ تا قیامت رہے گا بعد قیامت اس کا نتیجہ دیکھے گا۔جب جھوٹ کی ملاوٹ کا یہ وبال ہے تو خاص جھوٹی قسم کا کیا حال ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ اعضائے ظاہری کا اثر دل و دماغ پر پڑتا ہے جیسے کہ دل کا اثر ظاہری اعضاء پر ہوتا ہے دل کی رنج و خوشی چہرے سے ظاہر ہوتی ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ دل مثل آئینہ کے صاف و شفاف ہے اس کی صفائی کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔
۷؎ یہ حدیث احمد ابن حبان اور حاکم نے بھی روایت کی۔
|
3778 -[21] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ أَوْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ نے کہ نہیں قسم کھاتا کوئی میرے اس منبر کے پاس ۱؎ جھوٹ پر قسم اگرچہ ہری مسواک پر ہو مگر وہ اپنا ٹھکانہ آگ کا بناتا ہے یا اس کے لیے آگ واجب ہوجاتی ہے ۲؎ (مالک،ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ اگرچہ مکہ معظمہ یعنی کعبہ معظمہ کا منبر اور تمام عالم کی مسجدوں کے منبر حضور ہی کے ہیں مگر ھٰذا فرماکر بتایا کہ ہماری مراد مسجد نبوی شریف کا منبر ہے جو ریاض الجنہ کے دوسرے کنارہ پر واقعہ ہے۔شعر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع