دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱؎ یعنی جھوٹا مدعی دو گناہ کرتا ہے:جھوٹ بولنا اور دوسرے کے حق مارنے کی کوشش کرنا لہذا وہ ہمارے طور طریقہ سے نکل جاتا ہے مؤمن کو ان عیوب سے پاک و صاف ہونا چاہیے۔ڈھونڈے امربمعنی خبر ہے یعنی وہ آگ کا مستحق ہے۔

3766 -[9]

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ؟ الَّذِي يَأْتِي بشهادتِه قبلَ أنْ يسْأَلهَا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت زید ابن خالد سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تم کو بہترین گواہوں کی خبر نہ دوں ۲؎ وہ گواہ ہے جو طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے دے ۳؎ (مسلم)

۱؎ آپ صحابی ہیں،جہنی ہیں،آپ کی وفات  ۷۸ھ؁  میں ہوئی،پچاسی سال عمر پائی،عبدالملک کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی۔(اشعہ)

۲؎  شہداء جمع ہے شاھد کی بھی شہید کی بھی یہاں شاہد کی جمع ہے۔

۳؎ اس فرمان عالی کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ کسی کے پاس کسی مدعی کے حق کی گواہی ہے اور مدعی کو اس کی خبر نہیں اگر یہ گواہی نہ دے تو اس کا حق مارا جائے تب اس پر لازم ہے کہ خود مدعی کو خبر دے دے کہ میں تیرے حق کا عینی گواہ ہوں تاکہ اس کا حق نہ مارا جائے،یہ گواہی امانت ہے جس کا چھپانا خیانت ہے۔دوسرے یہ کہ حقوق شرعیہ کی گواہی دینا واجب ہے اگرچہ اس کا دعویٰ نہ ہو جیسے طلاق،عتاق، وقف،عام وصیت کہ ان جیسی چیزوں کی گواہی قاضی کے ہاں ضرور دے اگرچہ اسے طلب نہ کیا گیا ہو،ان دونوں گواہیوں کے متعلق رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَقِیۡمُوا الشَّہٰدَۃَ لِلہِ"۔چونکہ ان گواہیوں سے حق انسانی اور حقوق شرعیہ وابستہ ہیں لہذا ضرور ادا کرے طلب کا انتظار نہ کرے،رمضان و عید کے چاند کی گواہی ضرور دے،جس حدیث میں بغیرگواہ بنائے گواہی دینے کی برائی ہے یشھدون ولا یستشھدون وہاں جھوٹی گواہی نااہل گواہی مراد ہے۔(لمعات،مرقات و اشعہ)

3767 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسبِقُ شَهَادَة أحدِهمْ يَمِينه وَيَمِينه شَهَادَته»

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بہترین لوگ میرے ہم زمانہ ہیں ۱؎ پھر وہ جو ان سے متصل ہوں گے پھر وہ جو ان سے ملے ہوں گے۲؎ پھر ایسی قوم آئے گی جن میں ہر ایک کی گواہی اسی کی قسم پر پہل کرے گی اور اس کی قسم اس کی گواہی پر۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ قرن کے لغوی معنی ہیں ملنا،اسی سے ہے اقتران زمانہ اور اہل زمانہ اورگروہ کو قرن اس لیے کہتے ہیں کہ ہم زمانہ اور ایک گروہ کے لوگ ملے ہوئے ہوتے ہیں اس میں گفتگو ہے کہ قرن یعنی زمانہ کس مدت کا نام ہے،تیس سال،چالیس سال،ساٹھ سال،ستر سال اسی۸۰ سال،سو سال آخری قول زیادہ قوی ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بچہ کے سر پر ہاتھ پھیرکر فرمایا تم ایک زمانہ تک جیتے رہو عشی قرنا تو وہ سو برس جیا۔(مرقات)بعض اہل اﷲ فرماتے ہیں کہ حضرات خلفاءراشدین کا زمانہ حضور انور کا زمانہ ہے،ق میں صدیق کی طرف ر میں حضرت عمر کی طرف ن میں حضرت عثمان کی طرف اور ی میں حضرت علی کی طرف اشارہ ہے۔بعض نے فرمایا کہ حضور کے صحابہ حضور کے قرن ہیں،بعض نے فرمایا کہ جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات ظاہری شریف میں زندہ تھا وہ حضور کا ہم زمانہ ہے۔(از مرقات واشعہ مع زیادت)خیال رہے کہ زمانہ نبی اور ہے زمانہ نبوت کچھ اور،حضور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن