30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ الد بنا ہے لدید سے بمعنی سخت جھگڑا،خصم بنا ہے خصومت سے بمعنی بہت جھگڑا دونوں کے مجموعہ کے معنے ہوئے بہت اور سخت جھگڑالو،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ"یعنی عادی مقدمہ باز آدمی مردود بارگاہ الٰہی ہے۔
|
3763 -[6] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قضى بِيَمِين وَشَاهد. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا قسم اور گواہ سے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ اس حدیث کے معنی حضرت امام شافعی و احمد و مالک رحمۃ اﷲ علیہم یہ کرتے ہیں کہ مدعی کے پاس ایک گواہ تھا تو حضور نے مدعی سے وہ گواہ قبول فرمالیا اور اس مدعی سے ایک قسم لے لی اور اس ایک گواہ اور ایک قسم پر اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔چنانچہ ان حضرات کے ہاں ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا جائز ہے مگر امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک مدعی پر قسم نہیں قسم مدعیٰ علیہ پر ہے،نیز ایک گواہ کافی نہیں،عام حقوق میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے اورثبوت زنا کے لیے چار مردوں کی گواہی لازم ہے۔جہاں کہیں ایک کی خبر قبول ہے وہاں وہ خبر ہے گواہی نہیں جیسے رمضان کے چاند کا ثبوت جب کہ آسمان پرگردوغبار ہو،یوں ہی یوسف علیہ السلام کی عصمت کا ایک گواہ کہ وہ شرعی گواہ نہ تھا بلکہ بطور معجزہ ایک شیر خوار بچے نے علامات عصمت کی خبر دی تھی۔خیال رہے کہ مذہب حنفی نہایت ہی قوی ہے اور ان تین آئمہ رضی اﷲ عنہم کا یہ استدلال بہت ہی ضعیف ہے چند وجوہ سے:ایک یہ کہ ان ائمہ کے نزدیک بھی ایک گواہی اور ایک قسم پر فیصلہ صرف مالی مقدمات میں ہوگا۔دوسرے مقدمات میں صرف گواہیاں ضروری ہوں گی لہذا یہ حدیث ان کے معنی کے بھی خلاف ہوگی۔دوسرے یہ کہ اگر اس حدیث کے وہ معنی ہوں جو ان حضرات نے کیے تو یہ حدیث آیت قرآنی کے خلاف ہوگی،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاِنْ لَّمْ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتَانِ"اور گواہ دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد دو عورتیں،نیز فرماتا ہے:"وَ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"اپنے میں سے دو عادل مردوں کو گواہ بناؤ اور خبر واحد کتاب اﷲ کے مقابل عمل ہے۔تیسرے یہ کہ اس معنی سے یہ حدیث ایک متواتر حدیث کے خلاف ہوگی البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر گواہی مدعی پر ہے اور قسم انکاری مدعیٰ علیہ پر وہاں قسم اور گواہی کو تقسیم فرمادیا تو مدعی قسم کیسے کھاسکتا ہے،لہذا احناف کے ہاں اس حدیث کے دو معنی ہیں:ایک یہ کہ یہاں یمین و شاہد سے جنس مراد ہے اور قضا سے عام فیصلے۔معنی یہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمومًا فیصلے مدعیٰ علیہ کی قسم اور مدعی کی گواہی پر کیے ہیں الہام یا کشف پر نہیں کیے تاکہ امت کے لیے سند رہے۔ دوسرے معنی یہ کہ یہاں قضا و فیصلہ مدعیٰ علیہ کے حق میں مراد ہے یعنی ایک واقعہ میں مدعی کے پاس ایک گواہ تھا اور مدعیٰ علیہ نے قسم کھائی تو حضور نے مدعیٰ علیہ کے حق میں فیصلہ دیا کیونکہ گواہی کا نصاب مکمل نہ تھا ان معانی سے مذکورہ قباحتوں سے میں سے کوئی قباحت نہ رہی۔
|
3764 -[7] وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي وَفِي يَدِي لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ منْ شيءٍ قَالَ: «ليسَ لكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ» . فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: «لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنهُ معرض» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت علقمہ ابن وائل سے وہ اپنے والد سے ۱؎ راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک شخص حضر موت کا اور ایک شخص کندہ کا حاضر ہوا ۲؎ حضرمی نے عرض کیا یارسول اﷲ اس نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے(جبرًا قبضہ) پھر کندی بولا وہ زمین میری ہے اور میرے قبضے میں ہے ۳؎ اس میں اس شخص کا کچھ حق نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرمی سے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ ہیں عرض کیا نہیں فرمایا تو تجھے اس کی قسم(ماننا پڑے گی)۴؎ وہ بولا یارسول اﷲ یہ شخص فاسق ہے پرواہ نہیں کرتا کہ کس چیز پر قسم کھائے اور کسی چیز سے یہ احتیاط نہیں کرتا فرمایا تیرے لیے اس کی طرف سے اس کے سوا کچھ نہیں ۵؎ وہ دوسرا قسم کھانے اٹھا تو فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب وہ پھرا ۶؎ کہ اس نے اس کے مال کی قسم کھالی تاکہ اسے ظلمًا کھالے تو وہ اﷲ سے اس حال میں ملے گا اﷲ تعالٰی اس سے غیرمتوجہ ہوگا ۷؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع