دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۴؎ یعنی شیخ محی الدین نووی نے بحوالہ مذکورہ مدعی پر گواہی لازم ہونے کا ذکر بھی فرمایا۔خیال رہے کہ بینۃ یا تو بنا ہے بینونۃ بمعنی جدائی سے یا بیان سے بمعنی ظہور،چونکہ گواہی شرعی حق و باطل کو جدا جدا کردیتی ہے یا اس سے چھپی چیز ظاہر ہوجاتی ہے اس لیے اسے بینہ کہتے ہیں۔(مغرب،مرقات)خیال رہے کہ مدعی کے ذمہ گواہی اور مدعیٰ علیہ پر قسم ہونا عظیم الشان قاعدہ ہے اور یہ حدیث معنیً متواتر ہے جیسے حدیث انما الاعمال بالنیات متواتر ہے،مدعی پر قسم نہیں مدعیٰ علیہ پر گواہی نہیں۔

3759 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ: (إِنَّ الَّذِينَ يشترونَ بعهدِ اللَّهِ وأيمانِهمْ ثمنا قَلِيلا)إِلَى آخر الْآيَة

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو لزومی قسم پر حلف اٹھائے ۱؎ حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہو تاکہ کسی مسلمان آدمی کا مال مارے ۲؎ تو وہ قیامت کے دن اﷲ سے اس حالت میں ملے گا۳؎ کہ وہ اس پر ناراض ہوگاتو اﷲ نے اس کی تصدیق اتاری کہ بے شک جو لوگ اﷲ کے عہد کے اور اپنی قسموں کے بدلہ تھوڑی قیمت خرید لیتے ہیں۴؎ الخ(مسلم،بخاری)۵؎

۱؎  حلف کے معنے ہیں یمین و قسم،صبر بمعنی روکنا،جو قسم مدعی کے دعویٰ کو روک دے،اسے جاری نہ ہونے دے وہ یمین صبر ہے یعنی دعوے کو روک دینی والی قسم ۔ بعض نے فرمایا  کہ   جھوٹی قسم  یمین ہے۔(لمعات )بعض کے نزدیک مضبوط قسم یمین صبر ہے جس قسم سے مدعی ترک دعویٰ پر مجبور ہوجائے جیسے عرب میں نماز عصر کے بعد کی قسم یا حضور کے منبروروضہ مطہرہ کے پاس قسم یا ہمارے ہاں قرآن مجید کو ہاتھ لگاکر یا سر پر رکھ کر قسم یا اپنے جوان بیٹے کا بازو پکڑ کر قسم۔

۲؎ یعنی پختہ قسم کھائے جھوٹی کھائے اور عمدًا کھائے دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے کھائے جیسے مال مارنا وغیرہ۔

۳؎ یعنی قیامت کے دن ظہور فضل خداوندی کے وقت جب رب تعالٰی بڑے بڑے گنہگاروں پر رحم فرمادے گا اس جھوٹے پر رحم نہ کرے گا بلکہ اسے رحمت و محبت کی نظر سے دیکھے گا بھی نہیں۔

 ۴؎ اس آیت کریمہ کی شرح وتفسیر ہماری تفسیر میں ملاحظہ کیجئے یہاں اتنا سمجھ لیجئے کہ تجارت میں قیمت غیر مقصود ہوتی ہے اسی لیے سکہ بدل جانے سے بیع ختم نہیں ہوتی اور چیز بدل جانے سے بیع ختم ہوجاتی ہے،قیمت چیز حاصل کرنے کا ذریعہ ہے  جیسے روپیہ ذریعہ ہے غلہ وغیرہ حاصل کرنے کا اگر اس سے چیز نہ ملے تو روپیہ بیکار ہے جیسے کھوٹا روپیہ یا وہ روپیہ جس کا چلن جاتا رہا،دنیا قیمت ہے آخرت اصل چیز اور پھر دنیا قیمت بھی ہے تھوڑی "قُلْ مَتٰعُ الدُّنْیَا قَلِیۡلٌجو دنیا کے عوض دین بربادکرتا ہے وہ بے وقوف ہے کہ مقصود کے عوض غیر مقصود کرلیتا ہے اور بہت کے عوض تھوڑے کا گاہک بنتا ہے۔

۵؎ اس حدیث کو احمد اور باقی چار صحاح نے اشعث ابن قیس اور ابن مسعود سے مرفوعًا روایت فرمایا رضی اللہ عنہم اجمعین۔

3760 -[3]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئا يسير يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا من أَرَاك» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ نے جس نے اپنی قسم سے کسی مسلمان کا حق مار لیا ۱؎ تو اﷲ نے اس کے لیے آگ لازم کردی اور اس پر جنت حرام کردی ۲؎ تو حضور سے ایک شخص نے عرض کیا کہ اگرچہ معمولی چیز ہو یا رسول اﷲ تو فرمایا اگرچہ پیلو کی شاخ ہی ہو ۳؎ (مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن