دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

دلال بھی داخل ہے جو فریقین اور حکام کے درمیان دلالی کرکے رشوت دلاتا ہے۔بینہما میں ھما ضمیر راشی اور مرتشی کی طرف راجع ہے۔خیال رہے کہ حرام کام کی دلالی اس کی کوشش بھی حرام ہے۔

3756 -[12]

وَعَن عَمْرِو بن العاصِ قَالَ: أَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنِ اجْمَعْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ وَثِيَابَكَ ثُمَّ ائْتِنِي» قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: «يَا عَمْرُو إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَيْكَ لِأَبْعَثَكَ فِي وُجْةٍ يُسَلِّمُكَ اللَّهُ وَيُغَنِّمُكَ وَأَزْعَبَ لَكَ زَعْبَةً مِنَ الْمَالِ» . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَتْ هِجْرَتِي لِلْمَالِ وَمَا كَانَتْ إِلَّا لِلَّهِ ولرسولِه قَالَ:«نِعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَرَوَى أَحْمَدُ نَحْوَهُ وَفِي روايتِه: قَالَ: «نِعْمَ المالُ الصَّالحُ للرَّجُلِ الصالحِ»

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے پیغام بھیجا کہ اپنے ہتھیار اور اپنے کپڑے پہن لو ۱؎  پھر میرے پاس آؤ ۲؎  فرماتے ہیں کہ میں حضور کے پاس حاضر ہوا حالانکہ آپ وضو کررہے تھے تو فرمایا اے عمرو میں نے تمہیں اس لیے پیغام بھیجا تاکہ تمہیں ایک کام میں بھیجوں۳؎ تمہیں خدا تعالٰی سلامت لوٹائے گا اور غنیمت دے گا۴؎  اور ہم تم کو کچھ مال بھی عطا فرمائیں گے ۵؎ تو میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میری ہجرت مال کے لیے نہ تھی ۶؎  وہ تو صرف اﷲ رسول کے لیے تھی۷؎ فرمایا نیک آدمی کے لیے اچھا مال بہت ہی اچھا ہے ۸؎  اسے شرح سنہ میں روایت کیا اور احمد نے اسی کی مثل روایت کی اور ان کی روایت میں یوں ہے کہ اچھا مال نیک آدمی کے لیے اچھا ہے ۹؎

۱؎  یعنی سفر کی تیاری کرلو کیونکہ اس زمانہ میں بغیر ہتھیار سفر ناممکن تھا،راستے پُرامن نہ تھے یہ سفرجہاد کا نہ تھا ورنہ لشکر آراستہ فرمایا جاتا نوعیت سفر کا ذکر آگے آرہا ہے۔

۲؎  گھر والوں سے وداع ہوکر کیونکہ تم کو یہاں سے سفر پر بھیج دیا جائے گا۔

۳؎  اس جگہ وجہ کے معنے اشعۃ اللمعات نے سمت و طرف کیے ہیں اور مرقات نے عمل و کام،ہمارا ترجمہ مرقات کے ماتحت ہے یعنی ہم تم کو کسی جگہ کچھ کام کے لیے بھیجتے ہیں عامل زکوۃ بنا کر یا حاکم بنا کر۔

۴؎  یہاں غنیمت سے مراد شرعی غنیمت نہیں جو جہاد میں کفار سے حاصل کی جاتی ہے بلکہ اﷲ کی رحمت مراد ہے جو بغیر محنت و شفقت مل جائے ثواب،عزت،رحمت۔

۵؎  یعنی ثواب عزت کے علاوہ ہم تم کو اجرت و معاوضہ بھی عطا فرمائیں گے یہ حدیث حکام کی تنخواہ کی اصل ہے مقرر اس لیے نہ فرمائی کہ حضور مالک ہیں،غلاموں کو جو چاہیں عطا فرمادیں،یہ محض تنخواہ نہ تھی بلکہ عطیہ شاہانہ بھی تھا اور اب تنخواہ کا مقررکرنا ضروری ہے کہ اجارہ میں کام و مال دونوں مقرر ہونے چاہئیں لہذا حدیث واضح ہے اس پر اعتراض نہیں۔

۶؎  یعنی میں بغیر معاوضہ یہ خدمت انجام دوں گا کیونکہ میرا اسلام لانا ہجرت کرنا،عہدہ حاصل کرنے بڑی تنخواہ لینے کے لیے نہ تھا۔ سبحان اﷲ! یہ تھا اخلاص۔خیال رہے کہ حضرت عمرو ابن عاص      ۵ھ؁  میں   مکہ سے مدینہ منورہ حضرت خالد ابن ولید کے ساتھ حاضر ہوئے تھے،بیعت کرنے بارگاہ اقدس میں بیٹھے حضور انور نے اپنا ہاتھ بڑھایا کہ پکڑو اور بیعت کرو تو حضرت عمرو نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا حضور انور نے فرمایا یہ کیا،عرض کیا کہ اس شرط پر ایمان لاتا ہوں کہ میرے پچھلے گناہ سارے معاف ہوجائیں،اے عمرو کیا تمہیں خبر نہیں کہ اسلام پچھلے سارے گناہ مٹا دیتا ہے،اسی طرح ہجرت سارے پچھلے گناہ معاف کرادیتی ہے یعنی تم تو اسلام اور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن