30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3752 -[8] وَعَن عَدِيِّ بنِ عَمِيرةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غَالٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ. قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا قَالَ: «وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُد وَاللَّفْظ لَهُ |
روایت ہے حضرت عدی ابن عمیرہ ۱؎ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے لوگو تم میں سے جو کوئی ہمارے کام پر عامل بنایا گیا ۲؎ پھر اس میں سے سوئی اور اس کے اوپر کوئی چیز ہم سے چھپائی تو وہ خائن ہے قیامت کے دن وہ لائے گا ۳؎ تو ایک انصاری صاحب کھڑے ہوکر بولے یارسول اﷲ مجھ سے اپنا عمل (نوکری)لے لیجئے ۴؎ فرمایا یہ کیا عرض کیا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا فرمایا یہ تو میں کہتا ہوں کہ ہم جسے کسی کام پر عامل بنائیں تو وہ تھوڑا اور بہت حاضر کردے ۵؎ پھر اس میں سے اسے جو دیا جائے وہ لے لے ۶؎ اور جس سے منع کیا جائے اس سے باز رہے۔(مسلم،ابوداؤد)اور لفظ ابوداؤد کے ہیں۔ |
۱؎ آپ صحابی ہیں،کندی حضرمی ہیں،کوفہ میں رہے پھر وہاں سے جزیرہ کی طرف منتقل ہوگئے،وہاں ہی وفات ہوئی۔
۲؎ صدقہ وصول کرنے پر عامل بنایا گیا یا کہیں کا حاکم مقرر ہوا۔
۳؎ اس طرح کہ خیانت کا مال اس کے سر پر ہوگا اور قیامت کے دن رسوا ہوگا جیسے زکوۃ نہ دینے والے کا مال خود مالک پر سوار ہوگا جس سے اسے تکلیف بھی ہوگی اور رسوائی بھی،یہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ رب تعالٰی قیامت میں اس امت کے چھپے ہوئے گناہ چھپائے گا،علانیہ گناہ اور بعض دوسرے گناہ جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے ظاہر فرمادے گا لہذا یہ حدیث ان پردہ پوشی کی احادیث کے خلاف نہیں۔
۴؎ ان انصاری کا نام معلوم نہ ہوسکا،یہ کسی جگہ عامل مقرر ہوکر جارہے تھے یہ وعید سن کر اپنے میں اتنی احتیاط کی قوت نہ دیکھی انہوں نے استعفیٰ پیش کیا۔
۵؎ اس کلام کی تکرار مبالغہ اور تاکید کے لیے ہے کہ تم خواہ عمل قبول کرو یا نہ کرو حکم تو یہ ہی رہے گا۔
۶؎ یہ اس صورت میں ہے کہ تنخواہ مقرر نہ ہو سلطان خود اس کے عمل اور اجرت کا اندازہ لگا کر دے،منع کیے جانے سے مراد نہ دیناہے۔
|
3753 -[9] وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ 3754 -[10] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ عَنهُ وَعَن أبي هُرَيْرَة |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ لعنت فرمائی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر ۱؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ) اسے ترمذی نے ان ہی سے اورحضرت ابوہریرہ سے روایت کیا۔ |
۱؎ راشی رشوت دینے والا اور مرتشی رشوت قبول کرنے والا،رشوۃ بنا ہے رشاء بمعنی رسی سے،رسی کنویں سے پانی نکالنے کا ذریعہ ہوتی ہے،ایسے ہی رشوت کا مال ناجائز فیصلہ کرانے اور اپنا کام نکالنے کا ذریعہ ہوتا ہے اس لیے اسے رشوت کہتے ہیں۔رشوت کی بہت صورتیں ہیں:حکام کی خصوصی دعوتیں،حکام کو ڈالیاں دینا، انہیں نقد روپیہ یا نیوتہ وغیرہ کے بہانے سے کچھ دینا،یہ سب رشوتیں ہیں۔خیال رہے کہ حق فیصلہ پر بھی فریقین میں سے کسی فریق سے کچھ لینا بھی رشورت ہے کہ حاکم پر حق فیصلہ کرنا شرعًا واجب تھا،پھر رشوت لےکر ناحق فیصلہ کرنا تو خدا کے قہر کا موجب ہے مگر ظلم سے بچنے کے لیے یا حق فیصلہ کرانے کے لیے رشوت دینا جائز ہے ۔حضرت ابن مسعود نے زمین حبشہ کے جھگڑے میں وہاں کے حاکم کو دو دینار دے کر اپنے کو ظلم سے بچایا۔(مرقات)
|
3755 -[11] وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» عَنِ ثَوْبَانَ وَزَادَ: «وَالرَّائِشَ» يَعْنِي الَّذِي يَمْشِي بَيْنَهُمَا |
اور اسے احمدوبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ثوبان سے روایت کیا اور یہ زیادہ کیا کہ رائش سے مراد ہے جو ان دونوں کے درمیان کوشش کرے ۱؎ |
۱؎ اگر یہ کلام رائش کی تفسیر و شرح ہے تو مطلب یہ ہے کہ یہاں رائش کے معنے رشوت دلوانے والا ہے یعنی حاکم کا ایجنٹ و دلال جو مقدمہ والوں سے خفیہ طور پر حاکم کو رشوت دلواتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ رائش کی تفسیر نہ ہو بلکہ توسیع ہو یعنی رائش میں وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع