30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3750 -[6] وَعَن مُعَاذٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَلَمَّا سِرْتُ أَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرُدِدْتُ فَقَالَ: «أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي فَإِنَّهُ غُلُولٌ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لهَذَا دعوتك فَامْضِ لعملك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف بھیجا جب میں چل دیا تو میرے پیچھے بلانے والے کو بھیجا تو میں لوٹایا گیا ۱؎ فرمایا کیا تم جانتے ہوکہ میں نے تمہیں کیوں بلایا کوئی چیز میری اجازت کے بغیر نہ لینا کہ وہ خیانت ہے۲؎ جو خیانت کرے گا تو قیامت کے دن خیانت کا مال لائے گا تمہیں اس لیے بلایا تھا اب اپنے کام پر جاؤ ۳؎ (ترمذی) |
۱؎ وہ فرمان عالی سنانے کے لیے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
۲؎ اگرچہ یہ فرمان عالی پہلے بھی سنایا جاسکتا تھا مگر دوبارہ واپس لوٹانے اور پھر یہ سوال فرمانے میں کہ بتاؤ ہم نے تم کو کیوں لوٹایا،اہتمام مقصود ہے جو بات اس قدر اہمیت سے سنائی جائے وہ خوب یاد رہتی ہے۔
۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ حکام اور والیوں کو سلطان اسلام کی طرف سے تقویٰ و طہارت کی نصیحت کرنا سنت ہے۔
|
3751 -[7] وَعَن المستَوْرِدِ بنِ شدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذَلِكَ فَهُوَ غالٌّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت مستورد ابن شداد سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو ہمارا عامل بنے چاہیے کہ بیوی کرلے پھر اگر اس کے خادم نہ ہو تو چاہیئے کہ خادم رکھ لے اگر اس کے پا س مکان نہ ہو تو مکان بنالے ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ جو اس کے علاوہ لے گا وہ خائن ہوگا ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ شارحین نے اس حدیث کے معنے یہ کیے ہیں عامل،حاکم بیت المال سے روپیہ لے کر نکاح بھی کرسکتا ہے،غلام بھی خرید سکتا ہے یا نوکر بھی رکھ سکتا ہے، اپنے لئے گھر بھی بنا سکتا ہے مگر یہ حکم اس زمانہ کا ہے جب کہ عامل کی ماہوار یا سالانہ تنخواہ مقرر نہ ہو اور بیت المال میں ان خرچوں کے نکالنے کی گنجائش ہو،حکام کی تبدیلی نہ ہوئی ہو،ایک حاکم ایک جگہ مستقل رہتا ہو،وہ عامل صحابہ کرام کی طرح دیانتدار ہوکہ صرف بقدر ضرورت ہی خرچ کرے زیادہ ایک پیسہ بھی نہ لے لیکن اگر حاکم کو آج کل کی طرح باقاعدہ تنخواہ ملتی ہو تو ان میں سے کوئی خرچ بیت المال سے نہ لے۔اب حکومتیں بعض حکام کو کوٹھی،ملازم کی تنخواہ بلکہ سرکاری دورہ کے مصارف بھی دیتی ہیں،نیز اگر حاکم کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے تو وہ ہر جگہ بیت المال(خزانہ)سے اپنی کوٹھیاں نہ بنوائے لہذا ان حالات میں اب ان چیزوں کی ا جازت نہ ہوگی۔
۲؎ یعنی ایسا حاکم اگر خزانہ کے خرچ پر ایک سے زیادہ نکاح کرے یا ایک سے زیادہ خادم و نوکر رکھے یا قدر ضرورت سے زیادہ مکان بنوائے تو خائن ہے،نیز غیرضروری خرچ کے لیے خزانہ سے کچھ نہ لے۔
|
3752 -[8] وَعَن عَدِيِّ بنِ عَمِيرةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عُمِّلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غَالٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ. قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا قَالَ: «وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَأْتِ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُد وَاللَّفْظ لَهُ |
روایت ہے حضرت عدی ابن عمیرہ ۱؎ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے لوگو تم میں سے جو کوئی ہمارے کام پر عامل بنایا گیا ۲؎ پھر اس میں سے سوئی اور اس کے اوپر کوئی چیز ہم سے چھپائی تو وہ خائن ہے قیامت کے دن وہ لائے گا ۳؎ تو ایک انصاری صاحب کھڑے ہوکر بولے یارسول اﷲ مجھ سے اپنا عمل (نوکری)لے لیجئے ۴؎ فرمایا یہ کیا عرض کیا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا فرمایا یہ تو میں کہتا ہوں کہ ہم جسے کسی کام پر عامل بنائیں تو وہ تھوڑا اور بہت حاضر کردے ۵؎ پھر اس میں سے اسے جو دیا جائے وہ لے لے ۶؎ اور جس سے منع کیا جائے اس سے باز رہے۔(مسلم،ابوداؤد)اور لفظ ابوداؤد کے ہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع