دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3743 -[13]

وَعَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَين النَّاس قَالَ: أَو تعاقبني يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: وَمَا تَكْرَهُ مِنْ ذَلِك وَقد كَانَ أَبوك قَاضِيا؟ قَالَ: لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِالْعَدْلِ فَبِالْحَرِيِّ أَنْ يَنْقَلِبَ مِنْهُ كَفَافًا» . فَمَا راجعَه بعدَ ذَلِك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن موہب سے ۱؎ کہ حضرت عثمان ابن عفان نے جناب ابن عمر سے فرمایا کہ تم لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرو ۲؎  آپ نے عرض کیا اے امیر المؤمنین مجھے معاف رکھیں گے۳؎  فرمایا تم اس سے نفرت کیوں کرتے ہو حالانکہ تمہارے والد فیصلے فرمایا کرتے تھے۴؎ عرض کیا اس لیے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو قاضی ہو پھر انصاف سے فیصلے کرے تو اس لائق ہے کہ اس سے برابر برابر۵؎  لوٹے اس کے بعد حضرت عثمان نے دوبارہ نہ فرمایا ۶؎(ترمذی)

۱؎ آپ کا نام عبداﷲ ابن موہب ہے،تابعی ہیں،حضرت عمر ابن عبدالعزیز کے زمانہ میں ان کی طرف سے فلسطین کے حاکم تھے تقویٰ و طہارت میں مشہور تھے۔(اشعہ)

۲؎  یعنی حکومت عثمانیہ کی طرف سے قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کرلو۔

۳؎  یہ سوال طلب مہربانی کے لیے ہے یعنی کیا میں آپ کے لطف وکرم سے یہ امید کروں کہ آپ مجھے اس عہدے سے معاف رکھیں۔ اﷲ اکبر آج ہم عہد ے ڈھونڈھتے ہیں اور ان حضرات کو عہدے ڈھونڈھتے تھے۔

بہ بین تفاوت راہ کجا است تابہ کجا

۴؎  یعنی آپ کے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ زمانہ رسالت اور زمانہ صدیقی میں بھی لوگوں میں فیصلے فرمایا کرتے تھے خلیفہ تو بعد کو بنے پھر تم قضاء سے کیوں متنفر ہو۔

۵؎ حری بروزن فعیل صفت مشبہ ہے حری بمعنی لائق ہونے کا،ب زائدہ ہے اور بالحری مبتداء ہے اور ان ینقلب اس کی خبر، بعض نسخوں میں حریٰ ح کے فتحہ سے الف مقصورہ ہے مصدر تب یہ خبر مقدم ہے اور بعد کی عبارت مبتداء مؤخر دونوں ترکیبوں کے معنی ایک ہی ہیں۔(لمعات)کفافًا ک کے فتحہ سے کف کا مصدر کفاف کے لغوی معنے ہیں برابر کہ نہ بچے نہ بڑھے جیسے کہتے ہیں لا لی ولا علی یہ ینقلب کے فاعل سے حال ہے،ہوسکتا ہے کہ بمعنی مکفوف ہویعنی اس کی شر سے بچایا ہوا یعنی عادل و منصف قاضی کے لیے یہ ہی غنیمت ہے کہ کل قیامت میں اس کا چھٹکارا ہوجائے کہ نہ پکڑ ہو نہ ثواب ملے۔جب عادل قاضی کا یہ حال ہے تو جو قاضی ایسا ہوکہ قاضی بہ رشوت راضی اس کا کیا حال ہوگا۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان عالی میں وہ قاضی مراد ہیں جو اپنی کوشش سے قضا حاصل کریں لہذا یہ حدیث گزشتہ ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں عادل قاضی کے فضائل بیان ہوئے کہ اس کی اجتہادی غلطی پر اسے ایک ثواب ہے اور درستی پر دوہرا ثواب ،یہ حضرت عبداﷲ ابن عمر کی انتہائی احتیاط ہے کہ حضرت عثمان غنی کی پیش کردہ قضا کو بھی قبول نہیں فرماتے اور اس فرمان عالی کو اپنے جیسے بے نفس متقی ہستی پر چسپاں فرماتے ہیں فتویٰ اور ہوتا ہے تقویٰ کچھ اور۔

۶؎ یعنی حضرت عثمان غنی نے پھر جناب عبداﷲ پر قبول قضاء کے لیے زور نہ دیا۔خیال رہے کہ قضا کی طلب اس کے لیے گناہ تھی اور انصاف کرنا ثواب تو مطلب یہ ہوا کہ ایسا طالب جاہ قاضی اگر عدل و انصاف کرے اور یہ عدل وانصاف اس کے طلب قضا کے گناہ کا کفارہ ہی بن جائے تب بھی غنیمت ہے لہذا حدیث واضح ہے۔

3744 -[14]

وَفِي رِوَايَةِ رَزِينٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا أَقْضِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ: قَالَ: فَإِنَّ أَبَاكَ كَانَ يَقْضِي فَقَالَ: إِنَّ أَبِي لَوْ أُشْكِلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أُشْكِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سَأَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَإِنِّي لَا أَجِدُ مَنْ أَسْأَلُهُ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِعَظِيمٍ» . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ» . وَإِنِّي أَعُوذُ باللَّهِ أنْ تجعلَني قاضِياً فأعْفاهُ وَقَالَ: لَا تُخبرْ أحدا

اور رزین کی روایت حضرت نافع سے ان کی روایت ابن عمر سے کہ انہوں نے حضرت عثمان سے کہا اے امیر المؤمنین میں تو دوشخصوں کے درمیان فیصلہ نہیں کروں گا ۱؎ فرمایا تمہارے والد تو فیصلہ کرتے تھے تو عرض کیا کہ میرے والد پر کوئی مشکل بنتی تو وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتے تھے ۲؎ اور اگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی چیز مشکل ہوتی تو وہ جبرئیل علیہ السلام سے پوچھ لیتے تھے۳؎ اور میں اسے نہیں پاتا جس سے پوچھوں۴؎ اور میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو اﷲ کی پناہ مانگے تو اس نے بڑے کی پناہ مانگی اور میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ جو اﷲ کی پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو اور میں اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ آپ مجھے قاضی بنائیں۵؎ چنانچہ آپ نے انہیں معاف کردیا اور فرمایا کسی کو خبر نہ دینا ۶؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن