30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3742 -[12] وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ مُسْلِمًا وَيَهُودِيًّا اخْتَصَمَا إِلَى عُمَرَ فَرَأَى الْحَقَّ لِلْيَهُودِيِّ فَقَضَى لَهُ عُمَرُ بِهِ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ: وَاللَّهِ لَقَدْ قَضَيْتَ بِالْحَقِّ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ وَقَالَ: وَمَا يُدْريكَ؟ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَاللَّهِ إِنَّا نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّهُ لَيْسَ قَاضٍ يَقْضِي بِالْحَقِّ إِلَّا كَانَ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكٌ وَعَنْ شِمَالِهِ مَلَكٌ يُسَدِّدَانِهِ وَيُوَفِّقَانِهِ لِلْحَقِّ مَا دَامَ مَعَ الْحَقِّ فَإِذَا تركَ الحقَّ عرَجا وترَكاهُ. رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی حضرت عمر کی طرف مقدمہ لے گئے ۱؎ تو آپ نے حق یہودی کا دیکھا تواس کے حق میں فیصلہ فرمادیا ۲؎ اس پر آپ سے یہودی بولا اﷲ کی قسم یقینًا آپ نے حق فیصلہ فرمایا۳؎ اسے حضرت عمر نے درہ سے مارا۴؎ اور فرمایا تجھے یہ کیسے معلوم ہوا تو یہودی نے عرض کیا اﷲ کی قسم ہم توریت میں پاتے ہیں کہ ایسا کوئی قاضی نہیں جو حق سے فیصلہ کرے مگر ایک فرشتہ اس کے دائیں ہوتا ہے اور ایک فرشتہ اس کے بائیں طرف ہوتا ہے یہ دونوں اسے ٹھیک رکھتے ہیں اور اسے حق کی توفیق دیتے ہیں ۵؎ جب تک وہ حق کے ساتھ رہے پھر جب حق کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ دونوں چڑھ جاتے اور اسے چھوڑ جاتے ہیں ۶؎(مالک) |
۱؎ یہ مقدمہ حضرت سعید ابن مسیب نے خود دیکھا کیونکہ آپ تابعین سے ہیں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آپ نے پایا ہے۔
۲؎ یہ ہے عدل فاروقی کہ عدالت میں اپنے پرائے کا لحاظ نہیں اس کا حکم قرآن کریم نے دیا ہے۔خلافت حیدری کے دور میں ایک بار قاضی شریح کی عدالت سے حضرت علی کے مقابل ایک یہودی کو مقدمہ میں ڈگری مل گئی حالانکہ قاضی شریح حضرت علی کے ملازم تھے اس پر یہودی مسلمان ہوگیا اور جنگ صفین میں حضرت علی کی فوج میں وفات پاگیا۔(نورالانوار)
۳؎ یعنی فیصلہ حق و انصاف سے کیا یا حق تعالٰی کی مدد سے آپ نے ایسا عدل والا فیصلہ کیا ،ایسا فیصلہ کوئی شخص اپنی طاقت سے نہیں کرسکتا، دوسرے معنی زیادہ موزوں ہیں۔
۴؎ درہ مارنے سے مراد اسے درہ سے چھونا ہے کبھی کسی سے بات کرتے وقت اسے ہاتھ یا چھڑی سے چھوتے جاتے ہیں ایذاءوالی مار مرادنہیں۔(اشعہ)
۵؎ اس جواب کا مقصد یہ ہے کہ ا میر المؤمنین آپ نے یہ فیصلہ ان دو فرشتوں کی مدد سے کیا ہے جو آپ کے دائیں بائیں مدد کے لیے ہیں اگر ان کی مدد نہ ہوتی تو آپ مسلمان کے حق میں اور میرے خلاف فیصلہ کرتے کیونکہ مسلمان آپ کا اپنا تھا اور میں غیر تھا۔آپ حاکم حق ہیں لہذا جواب سوال کے بالکل مطابق ہے۔ (مرقات)اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مقرر شدہ فرشتے مدد کرتے ہیں۔دوسرے یہ کہ یہ دونوں فرشتے حاکم کو توفیق خیر دیتے ہیں لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضور ہماری مددکرتے ہیں ہم کو توفیق خیر دیتے ہیں۔
۶؎ اور اس ظالم کو اس کے نفس اور شیطان کے سپردکرجاتے ہیں۔معلوم ہوا اﷲ کے مقبولوں کا کسی کو چھوڑ دینا خدا کا عذاب ہے،اگر ڈول کو کنویں میں رسی چھوڑدے تو ڈول بجائے پانی لانے کے خود کیچڑ میں پھنس جاتا ہے۔اﷲ تعالٰی ہمیشہ اپنے مقبولوں کے سایہ میں رکھے،یہ بھی معلوم ہوا کہ ہماری بدکاریاں سیاہ کاریاں اﷲ کے بندوں کی مدد جاتے رہنے کا سبب ہیں ورنہ وہ حضرات بلا وجہ کسی کو نہیں چھوڑ دیتے وہ تو آخر تک نباہ کرتے ہیں ؎
لج پال پریت کو توڑت ناہیں جوبانھ پکڑیں تو چھوڑت ناہیں گھر آئے کو خالی موڑت ناہیں
ہم نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا ؎
اچھوں کا زمانہ ساتھی ہے میں بد ہوں مجھ کو بنا ہو تم کہلا کے تمہارا جاؤں کہاں بیکس کی کہاں شنوائی ہے
|
3743 -[13] وَعَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَين النَّاس قَالَ: أَو تعاقبني يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: وَمَا تَكْرَهُ مِنْ ذَلِك وَقد كَانَ أَبوك قَاضِيا؟ قَالَ: لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِالْعَدْلِ فَبِالْحَرِيِّ أَنْ يَنْقَلِبَ مِنْهُ كَفَافًا» . فَمَا راجعَه بعدَ ذَلِك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن موہب سے ۱؎ کہ حضرت عثمان ابن عفان نے جناب ابن عمر سے فرمایا کہ تم لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرو ۲؎ آپ نے عرض کیا اے امیر المؤمنین مجھے معاف رکھیں گے۳؎ فرمایا تم اس سے نفرت کیوں کرتے ہو حالانکہ تمہارے والد فیصلے فرمایا کرتے تھے۴؎ عرض کیا اس لیے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو قاضی ہو پھر انصاف سے فیصلے کرے تو اس لائق ہے کہ اس سے برابر برابر۵؎ لوٹے اس کے بعد حضرت عثمان نے دوبارہ نہ فرمایا ۶؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع