30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکام کے لیے جن کا حساب ہو،جو بغیر حساب جنتی ہوں وہ اس حکم سے خارج،جیسے حضرت سلیمان و داؤد علیہما السلام یا حضرات خلفاءراشدین لہذا حدیث صاف ہے واضح ہے۔
|
3741 -[11] وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ فَإِذَا جَارَ تَخَلَّى عَنْهُ وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةٍ: «فَإِذَا جارَ وَكله إِلَى نَفسه» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی اوفی ۱؎ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قاضی کے ساتھ اﷲ تعالٰی ہوتا ہے جب تک کہ وہ ظلم نہ کرے ۲؎ پھر جب وہ ظلم کرتا ہے تو اس سے الگ ہوجاتا ہے ۳؎ اور اسے شیطان چمٹ جاتا ہے ۴؎ (ترمذی،ابن ماجہ)اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جب وہ ظلم کرتا ہے تو رب اس کو نفس کے سپردکردیتا ہے ۵؎ |
۱؎ آپ عبداﷲ ابن اُنیس جہنی انصاری ہیں،اُنیس کی کنیت ابواوفی ہے،باپ بیٹے دونوں صحابی ہیں،غزوۂ احد،حدیبیہ اور تمام غزوات میں شریک ہوئے،ہمیشہ مدینہ منورہ میں رہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد کوفہ میں قیام رہا،حضرت انیس عینی ابو اوفی کی وفات مدینہ منورہ میں ۵۴ھ میں ہوئی۔(مرقات)مگر عبداﷲ ابن ابی اوفی کی وفات کوفہ میں ۸۷ھ میں ہوئی۔حضرت عبداﷲ ابن ابو اوفی ان صحابہ سے ہیں جن سے حضرت امام ابوحنیفہ قدس سرہ کی ملاقات ہے کیونکہ آپ کی وفات کے وقت امام اعظم کی عمر سات سال تھی اورکوفہ میں ان صحابہ کا قیام تھا جو امام اعظم کا وطن ہے۔(اشعۃ اللمعات)
۲؎ یعنی اﷲ تعالٰی اپنی رحمت و مدد کے ساتھ عادل حاکم کے ساتھ ہوتا ہے۔
۳؎ یعنی جو ظلم کرتے ہیں اس کی رحمت و مدد اس سے الگ ہوجاتی ہے،ایک روایت میں ہے تبرأ اﷲ عنہ رب تعالٰی اس سے بیزار ہوجاتا ہے۔
۴؎ شیطان سے مراد خاص شیطان ہے جو ظلم کرایا کرتا ہے ورنہ قرین شیطان تو ہمیشہ اس انسان کے ساتھ رہتا ہے جس کے ساتھ پیدا ہوا ہے یعنی پھر خاص ظلم و فساد کرانے والا شیطان اس ظالم حاکم کا ساتھی بن جاتا ہے پھر اس ظالم کی ڈور اس شیطان کے ہاتھ میں ہوتی ہے سمجھ لو پھر یہ ظالم کیا کچھ حرکتیں نہ کرے گا۔
۵؎ یعنی پھر ظالم حاکم اپنے نفس امارہ کے سپرد کردیا جاتا ہے۔خیال رہے کہ ہمارا نفس امارہ شیطان سے زیادہ خطرناک ہے کہ نفس بادشاہ ہے اور شیطان اس کا وزیرومشیر۔ونعوذ باﷲ من شرور انفسنا۔
|
3742 -[12] وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ مُسْلِمًا وَيَهُودِيًّا اخْتَصَمَا إِلَى عُمَرَ فَرَأَى الْحَقَّ لِلْيَهُودِيِّ فَقَضَى لَهُ عُمَرُ بِهِ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ: وَاللَّهِ لَقَدْ قَضَيْتَ بِالْحَقِّ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ وَقَالَ: وَمَا يُدْريكَ؟ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَاللَّهِ إِنَّا نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّهُ لَيْسَ قَاضٍ يَقْضِي بِالْحَقِّ إِلَّا كَانَ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكٌ وَعَنْ شِمَالِهِ مَلَكٌ يُسَدِّدَانِهِ وَيُوَفِّقَانِهِ لِلْحَقِّ مَا دَامَ مَعَ الْحَقِّ فَإِذَا تركَ الحقَّ عرَجا وترَكاهُ. رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی حضرت عمر کی طرف مقدمہ لے گئے ۱؎ تو آپ نے حق یہودی کا دیکھا تواس کے حق میں فیصلہ فرمادیا ۲؎ اس پر آپ سے یہودی بولا اﷲ کی قسم یقینًا آپ نے حق فیصلہ فرمایا۳؎ اسے حضرت عمر نے درہ سے مارا۴؎ اور فرمایا تجھے یہ کیسے معلوم ہوا تو یہودی نے عرض کیا اﷲ کی قسم ہم توریت میں پاتے ہیں کہ ایسا کوئی قاضی نہیں جو حق سے فیصلہ کرے مگر ایک فرشتہ اس کے دائیں ہوتا ہے اور ایک فرشتہ اس کے بائیں طرف ہوتا ہے یہ دونوں اسے ٹھیک رکھتے ہیں اور اسے حق کی توفیق دیتے ہیں ۵؎ جب تک وہ حق کے ساتھ رہے پھر جب حق کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ دونوں چڑھ جاتے اور اسے چھوڑ جاتے ہیں ۶؎(مالک) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع