30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث سے ثابت ہے کہ بغیر ولی نکاح نہیں کرسکتی"ایماامراۃ نکحت نفسھا نکاحھا باطل باطل باطل۔احناف نے قرآن پرعمل فرماکر عورت کو اپنے نفس کا مختار مانا،اس کی مکمل بحث جاء الحق میں دیکھئے۔
۴؎ یعنی اگر مجھے حدیث میں بھی نہ ملے اور حضور سے پوچھنے کا موقعہ بھی نہ ملے تو خود اپنے اجتہاد سے فیصلہ کروں گا۔اجماع امت کا ذکر اس لیے نہ فرمایا کہ زمانہ نبوی میں اجماع ناممکن ہے کیونکہ اس زمانہ میں مسئلہ حضور سے پوچھا جاسکتا ہے،قیاس کے لیے نص نہ ملنا کافی ہے مگر اجماع کے لیے نص نہ مل سکنا ضروری ہے۔
۵؎ یعنی قیاس کرتے وقت نص سے استخراج میں کوتاہی نہ کروں گا۔ؕقیاس شرعی کے معنے ہیں علت مشترکہ کی وجہ سے منصوص حکم کو غیرمنصوص میں جاری کرنا۔ہم سے کسی نے پوچھا کہ باجرے،جوار،چاول میں سود کیسا ہے؟ہم نے کہا کہ گندم وجَو میں سود کی ممانعت حدیث پاک میں ہے اور چاول وغیرہ بھی گندم کی طرح وزن وجنس میں ایک ہیں لہذا ان میں بھی سود حرام،یہ ہے قیاس،صرف رائے مراد نہیں۔اس کی مکمل بحث ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول بحث قیاس میں مطالعہ فرمایئے۔
۶؎ حضور انور کا آپ کے سینہ پر ہاتھ مارنا یا تو شاباش دینے کے لیے یا اپنا فیض آپ کے سینے میں پہنچانے کے لیے کہ اس کی برکت سے رب تعالٰی انہیں خطا سے بچائے۔اس سے معلوم ہوا کہ فقہاء کے اجتہادات و قیاسات بالکل حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مرضی کے مطابق ہیں اور یہ کہ اصول اسلام صرف قرآن و حدیث نہیں بلکہ قیاس مجتہد بھی ہے۔خیال رہے کہ اصول دین چار چیزیں ہیں:قرآن،سنت،اجماع امت و قیاس،اجماع اور قیاس کا ثبوت قرآن کریم سے بھی ہے،دیکھئے ہماری کتاب جاء الحق۔
|
3738 -[8] عَن عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ؟ فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ» . قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ: «إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ برأيي» فِي بَابِ «الْأَقْضِيَةِ وَالشَّهَادَاتِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم آپ مجھے بھیجتے ہیں میں تو نو عمر ہوں اور نہ مجھے قضا کا علم ہے ۱؎ تو فرمایا اﷲ تمہارے دل کو ہدایت دے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا۲؎ جب تم سے دو آدمی فیصلہ چاہیں تو پہلے کے لیے فیصلہ نہ کرنا حتی کہ دوسرے کی بات بھی سن لو ۳؎ کہ یہ اس کے لائق ہے کہ تم کو فیصلہ ظاہر ہوجائے ۴؎ فرماتے ہیں پھر اس کے بعد میں نے کسی فیصلہ میں کوئی تردد نہ کیا ۵؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)اور جناب ام سلمہ کی وہ حدیث إنما أقضي بينكم برأیی ان شاء اﷲ فیصلوں اور گواہیوں کے باب میں ذکر کریں گے ۶؎ |
۱؎ یعنی مجھے قضا کا تجربہ بھی نہیں ہے،علم سے مراد تجربہ ہے ورنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حق تعالٰی نے وہ علم عطا فرمایا تھا جس کی مثال نہیں اور اس عرض کا مقصد حضور سے مدد مانگنا ہے کہ حضور مجھ پر یہ بوجھ رکھ تو رہے ہیں میری مدد بھی فرمایئے جیسے موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا خدایا ہم کو فرعون سے خوف ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا،جانے سے انکار نہیں بلکہ طلب مدد ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع