دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

لیے کافی ہےلہذا حدیث بالکل واضح ہےاس پر کوئی اعتراض نہیں۔(لمعات و اشعۃ اللمعات)یہ توفیق اس حاکم کو ملتی ہے جو حکومت سے متنفر ہو رب کی طرف سےاسے حاکم بننا پڑجائے۔

۳؎ ظلم کے عدل پر غالب ہونے کی دوصورتیں ہیں:ایک یہ کہ ظلم اس کی عادت بن جائے وہ کبھی انصاف کرے ہی نہیں۔دوسرے یہ کہ ظلم زیادہ کرے انصاف کم،یہ دونوں حاکم دوزخی ہیں۔خیال رہے کہ ایک ظلم بھی کیفیت کے لحاظ سے ہزار انصاف پر غالب ہے اگرچہ کمیت کے لحاظ سے کم ہے،ایک قطرہ پیشاب سارے کنویں کو ناپاک کردیتاہے،یہاں غلبہ ظلم سے مراد کیفیت کاغلبہ ہے لہذا یہ خبر بھی واضح ہے۔شارحین نے اس حدیث کی اور بہت توجیہیں کی ہیں مگر یہ توجیہ قوی ہے۔بعض نے کہا ہے کہ عدل سے مراد اجتہاد کی صحت ہے اور ظلم سے مراد اجتہاد کی غلطی ہے جس حاکم کا اجتہاد و  استنباط زیادہ ترکتاب و سنت کے خلاف ہوتاہو بہت کم درست ہوتاہو وہ حاکم نہ بنے اگر بنے گا اور اپنے غلط اجتہاد سے فیصلے کرے گا تودوزخی ہوگا۔مرقات نے اسے ترجیح دی ہے اس کی تائیدگزشتہ حدیث سے ہورہی ہے کہ جو حاکم جاہل ہوکر فیصلے کرے وہ دوزخی ہے۔

3737 -[7]

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمين قَالَ: «كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟» قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟» قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ؟» قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو قَالَ: فَضَرَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدْرِهِ وَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يَرْضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا ۱؎ تو فرمایا جب تمہیں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو کس طرح فیصلے کروگے ۲؎ عرض کیا اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا فرمایا اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلہ کروں گا۳؎ فرمایا اگر تم رسو ل اللہ کی سنت میں بھی نہ پاؤ عرض کیااپنی رائےسے قیاس کروں گا ۴؎ اور کوتاہی نہ کروں گا ۵؎ فرماتے ہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا(تھپکی دی)اور فرمایا شکر ہے اس کا جس نے رسول اللہ کے رسول کو  اس کی توفیق دی جس سے رسول اللہ راضی ہیں ۶؎ (ترمذی،ابوداؤد،دارمی)

۱؎  وہاں کا حاکم و قاضی بناکر بھیجا تو بطور امتحان یہ سوال فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ حاکم و قاضی بنانے کا حق سلطان کو ہے،یہ بھی معلوم ہوا حکومت و قضا سونپنے سے پہلے اس کا امتحان لینا سنت ہے ہے آج بھی قانون پاس کرنے امتحان دینے کے بعد حاکم بنایا جاتا ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۲؎  سبحان اﷲ! کیا مبارک سوال ہے یہ نہ فرمایا کہ اگر کتاب و سنت میں نہ ہو کیونکہ قرآن و حدیث میں سب کچھ ہے ہم کو ملے یا نہ ملے،نہ ہونا اور ہے نہ پانا کچھ اور،سمندر میں موتی ہیں مگر ہرکسی کو نہیں ملتے۔

۳؎  فیصلہ کی ترتیب یہ ہے کہ اولًا قرآن کریم سے مسئلہ نکالا جائے مگر حدیث شریف کی روشنی میں اگر حدیث قرآن کریم کے مخالف معلوم ہوتی ہے تو تاویل کرکے ان دونوں میں موافقت کی جائے ،اگر موافقت ناممکن ہو تو اگر حدیث متواتر ہو اور نزول آیت کے بعد کی ہو تو آیت کو منسوخ مان کر حدیث پر عمل کیا جائے جیسے تعظیمی سجدے کی اباحت قرآن سے ثابت ہے مگر حرمت حدیث سے ثابت،تو حدیث پرعمل ہے اور تعظیمی سجدہ حرام ہے،اگر یہ شرائط نہ ہوں تو حدیث چھوڑ دی جائے گی قرآن پرعمل ہوگا جیسے قرآن سے ثابت ہے کہ بالغہ لڑکی اپنے نفس کی مختار ہے،خود نکاح کرسکتی ہے"فَلَا تَعْضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحْنَ اَزْوٰجَہُنَّ" مگر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن