دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۳؎ یعنی ایسے بے نفس قاضی کی بذریعہ فرشتہ مدد ہوتی رہے گی جس سے وہ ظلم وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔طبرانی نے بروایت ام سلمہ مرفوعًا نقل فرمایا کہ جو قضا میں مبتلا ہو اسے چاہیے مقدمہ کے دوران فریقین میں برابری کرے جگہ دینے میں،بات کرنے میں، دیکھنے میں،اشارہ کرنے میں اسی طرح بیہقی نے حضرت ام سلمہ سے مرفوعًا روایت کی۔

3735 -[5]

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَانِ فِي النَّارِ فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قاضی تین طرح کے ہیں ایک جنت میں اور دو دوزخ میں تو جو جنت میں ہے وہ تو وہ شخص ہے جو حق کو پہچانے پھر اس کا فیصلہ دے ۱؎ اور جو شخص حق کو جان لے مگر فیصلہ میں ظلم کرے تو وہ دوزخ میں ہے ۲؎ اور وہ شخص جو جہالت پر لوگوں کے فیصلے کرے تو وہ بھی دوزخ میں ہے۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ جنتی قاضی وہ ہے جس میں تین صفات ہوں:شرعی قواعد و قوانین سے پوری طرح عالم ہو،قضا کے احکام سے خوب واقف ہو،تحقیقات کے بعد فیصلہ کرے ،فیصلہ میں جلدی نہ کرے،حق فیصلہ کرے،اس کو  جو حق نظر آئے بعد تحقیق اس کی ڈگری کرے۔

۲؎  چونکہ یہ حاکم ظالم ہے اس لیے یہ بدترین دوزخی ہے اسی وجہ سے اس کاذکر پہلے فرمایا گیااس کا درجہ دوزخ میں بدتر ہوگاوہاں ٹھہرنازیادہ۔

۳؎  یا تو قضاء کے شرعی قوانین سے واقف نہ ہو جاہل ہو قاضی بن جائے یا مقدمہ کی نوعیت،حق و ناحق کی تحقیق سے بے خبر ہو اور فیصلہ کردے۔خیال رہے کہ فیصلہ اور فتوی میں فرق ہے،فیصلہ میں فریقین کادعو یٰ اور جواب دعویٰ سننا پھر گواہی وغیرہ لینا پھر قرائن و علامات میں غور کرنا ضروری ہے مفتی کا یہ کام نہیں فتویٰ میں صورت مسئولہ کا جواب ہوتاہے،دیکھو  دو  فرشتے شکل انسانی میں داؤد علیہ السلام کی خدمت میں آئے ایک نے کہا اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں میرے پاس ایک مگر یہ  میری ایک بھی لینا چاہتا ہے،آپ نے دوسرے کا جواب  دعوی سنے بغیر فتویٰ دے دیا۔ہندہ زوجہ ابو سفیان نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ ابو سفیان بخیل آدمی ہیں مجھے خرچہ پورا نہیں دیتے کیا میں ان کی جیب سے بقدر ضرورت نکال لیا کروں،فرمایا ہاں،ابوسفیان کو نہ بلایا ان سے جواب دعوی لیا،یہ ہے فتوی ،فیصلہ اور فتویٰ کا فرق خیال میں رکھیئے۔

3736 -[6]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مسلمانوں کا قاضی بننا طلب کرے حتّی کہ اسے پالے ۱؎ پھر اس کاانصاف اس کے ظلم پر غالب ہو تو اس کے لیے جنّت ہے ۲؎  اور جس کا ظلم اس کے انصاف پر غالب ہو اس کے لیے دوزخ ہے ۳؎(ابوداؤد)

۱؎  اس حدیث نے ان تمام حدیثوں کی شرح کردی جن میں قضا کی برائیاں ارشاد ہوئیں یعنی خود کوشش کرکے قاضی و حاکم بننے والا۔

۲؎ عدل کے ظلم پر غالب آنے کے معنی یہ ہیں کہ حاکم کا انصاف اس کے ظلم پر اس طرح غالب آجائے اور اس کی طبیعت پر ایسا چھاجائے کہ  اسے ظلم کرنے نہ دے،یہ مطلب نہیں کہ وہ عدل بھی کرتاہو اور ظلم بھی مگر عدل زیادہ کرتاہو اور ظلم کم کیونکہ ایک ظلم بھی ظالم کا بیڑا غرق کرنے کے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن